مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 111 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 111

111 ”انقلابی تحریک میں شامل ہونے کے بعد میں نے محسوس کیا کہ انقلابیوں کی کارروائیاں نہایت محدود ہیں۔میں نے انہیں متوجہ کیا کہ ان کا دائرہ وسیع کرنا چاہیئے اور نہ صرف ہندوستان کے تمام صوبوں میں اپنی شاخیں کھول دینا چاہیے بلکہ بیرون ملک کی انقلابی تحریک سے بھی ربط و ضبط بڑھا کر برطانوی سامراج کے خلاف وسیع تر محاذ بنانا چاہیئے۔اس زمانہ میں مجھے عراق، شام، مصر اور ترکی وغیرہ جانے کا اتفاق ہوا تھا۔میں ان خطوط پر پہلے ہی کام شروع کر چکا تھا۔میں نے اس سفر میں ہندوستان کی انقلابی تحریکوں کے درمیان رابطہ کی کڑیاں قائم کیں اور وہاں سے واپسی پر ہندوستان کے مسلمانوں میں حصول آزادی کا ولولہ پیدا کرنے کے لئے ضروری سمجھا کہ ایک اخبار جاری کیا جائے۔ہفت روزہ الہلال کا اجراء اسی مقصد کے لئے ہوا۔جون 1912ء میں الہلال کا پہلا شمارہ شائع ہوا۔میری ان کوششوں سے ایک طرف بنگال کی انقلابی تحریک ہندو انقلاب تحریک کے بجائے ہندوستانی انقلاب کی تحریک میں تبدیل ہو گئی۔اس میں مسلمانوں کی شمولیت کا دروازہ بھی کھل گیا۔مسلمان نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدار ہو گیا۔ہندوستان کی انقلابی تحریکوں کا ربط ضبط ایشیاء اور انقلابی تحریکوں کے ساتھ قائم ہو گیا“۔4 عالمی سوشلزم اور ابو الکلام آزاد اس بیان کا اگر سوشل ازم کی مستند عالمی تاریخ کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو حقیقت پوری طرح بے نقاب ہو جاتی ہے کہ ابوالکلام آزاد کی انقلابی سرگرمیاں حیران کن حد تک دوسرے انقلابیوں کے قدم بقدم، شانہ بشانہ اور متوازی طور پر چل رہی تھیں جس سے واضح نتیجہ بر آمد ہوتا ہے کہ جناب آزاد جن خطوط پر ہندوستان میں ایجی ٹیشن اور بغاوت پھیلانے کے لئے جو بھی عملی اقدامات کر رہے تھے، وہ فقط عالمی سوشلزم کی ہائی کمان ہی کا عکس تھا۔مثلاً 1905ء میں وہ غدر پارٹی میں شامل ہوئے۔ٹھیک اسی سال ریاستہائے متحدہ امریکہ کے مزدوروں کی تنظیم کا قیام عمل میں آیا۔5 پھر بالشویکی کا قانونی روز نامہ پٹرس برگ سے 1912ء کو نکلا بالکل یہی سال ”الہلال“ کے اجرا کا ہے۔6