مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 97
97 نہیں تھا۔محمڈن لیٹریری سوسائٹی کلکتہ نے مسلمانوں کے اہم لیڈروں کی طرف سے ایک عرضداشت شائع کی جس میں بنگال کو مسلمانوں کے لیے ” نعمت غیر مترقبہ “ قرار دیا گیا اور مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ تقسیم بنگال کے خلاف کسی جلسہ جلوس میں شامل نہ ہوں۔یہاں یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ جہاں چند مسلمان ایسے تھے جنہوں نے تقسیم بنگال کی مخالفت کی وہاں کچھ ایسے ہندو بھی تھے جو تقسیم بنگال کی حمایت کر رہے تھے۔مسلمانوں کو تقسیم سے فوائد تقسیم بنگال سے مسلمانوں کو بہت فوائد حاصل ہوئے۔اس صوبہ میں جہاں ان کی اکثریت تھی انہیں اپنی مرضی کے مطابق حکومت چلانے کا موقع میسر آیا۔تعلیمی میدان میں مسلمانوں نے خاطر خواہ ترقی کی۔1911ء تک صوبے کے پانچوں ڈویژنوں میں اعلیٰ درجے کے کالج قائم ہو چکے تھے۔1906ء میں کالجوں میں 1698 طلباء زیر تعلیم تھے۔1912ء میں یہ تعداد 2560 تک جا پہنچی۔ہائی سکول میں بھی مسلمان طلبہ کی تعداد 8869 سے 20729 تک جاپہنچی۔1912ء تک مختلف قسم کے سکولوں میں مسلمان اساتذہ کی تعداد 9654 سے بڑھ کر 14656 ہو گئی۔مشرقی بنگال میں نظم و نسق کی ابتری کے سبب دریائی راستوں پر جرائم بے حد ہوتے تھے۔اب ان جرائم کی روک تھام کی طرف توجہ کی گئی۔دریائی پولیس کا قیام عمل میں آیا۔ذرائع آمد ورفت کو بہتر بنایا گیا۔1911ء میں سڑکوں کی مرمت کے لیے تین لاکھ روپے کی رقم مخصوص کی گئی۔غرض یہ کہ مسلمانوں کو ہر شعبہ زندگی میں ترقی کرنے کا موقع میسر آیا۔تنسیخ تقسیم بنگال تقسیم بنگال کے خلاف تحریک آہستہ آہستہ مدہم پڑنے لگی۔سریندر ناتھ بیز جی نے خود اس بات کا اعتراف کیا کہ ”ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ تقسیم اب قائم ہو چکی ہے۔“ لیکن حکومت نے 12 دسمبر 1911ء کو اس ” طے شدہ فیصلے “ کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔اس اعلان نے بنگالی ہندوؤں میں ایک نئی روح پھونک دی۔کلکتہ میں ایک زبر دست جلوس نکالا گیا اور یہ قرار پایا کہ 12 دسمبر کو ”قومی تہوار “ کی فہرست میں داخل کیا جائے۔حکومت کے اس فیصلہ پر بے پناہ اظہار مسرت کرتے ہوئے امیکا چرن مور ندار نے کہا کہ ”آج میں خوشی کے ساتھ مرنے کو تیار ہوں۔“ بنگالی ہندو اس فیصلے سے اس قدر خوش ہوئے کہ جب شاہ بر طانیہ جارج پنجم کلکتہ گیا تو بہت سے اخبار نوسیوں