مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 96 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 96

96 کہتے تھے۔مسلمانوں کے خلاف نفرت ہمارے دلوں میں گھر کر چکی تھی جس نے ہمارے اور ان کے در میان تعلقات کو یکسر ختم کر دیا تھا۔اس کی واضح مثال کشور گنج میں پیش آئی جہاں سکول کے ہند و طلبا نے مسلمانوں کے ساتھ یہ کہہ کر بیٹھنے سے انکار کر دیا کہ ”ان کے منہ سے پیاز کی بو آتی ہے“۔تقسیم بنگال نے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان نفرت کی ایک مستقل خلیج پیدا کر دی۔مسلمانوں کے لیے دلوں میں نفرت پید اہو گئی تھی جس کا مظاہرہ سکولوں اور بازاوں میں ہو تا تھا۔18 تقسیم کے خلاف ہندوؤں کی مخالفت کا اندازہ یوں بھی لگایا جاسکتا ہے کہ 05-1904ء کے دوران مخالفت کرنے والے اخبارات کی اشاعت میں کئی گنا اضافہ ہو گیا مثلاً دی بنگالی کی اشاعت تین ہزار سے بڑھ کر گیارہ ہزار ہو گئی۔اسی طرح امرت بازار پتریکا کی اشاعت دو ہزار سے سات ہزار پانچ سوتک پہنچ گئی۔مسلمانوں کارڈ عمل تقسیم بنگال مسلمانوں کے لیے خدا کی رحمت ثابت ہوئی۔انہیں اس بات کا موقع میسر آیا کہ اپنے غصب شدہ حقوق واپس لے سکیں۔قدرتی طور پر انہوں نے تقسیم بنگال کا خیر مقدم کیا۔نواب سلیم اللہ خان نے تقسیم بنگال کی زبر دست حمایت کی۔منشی گنج میں ایک تقریر کے دوران میں انہوں نے کہا کہ ” تقسیم بنگال نے ہمیں خواب غفلت سے جگایا ہے اور ہمیں جد وجہد کی طرف متوجہ کیا ہے۔“ ایک اور موقعہ پر لیجسلیٹو کونسل میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم سے نہ تو بنگالی بولنے والوں میں کوئی جدائی ہوئی ہے نہ ہی ان میں کوئی کمزوری پید اہوئی ہے۔بلکہ اس کے بر عکس تقسیم کے سبب دونوں صوبوں کو ترقی کے مواقع ملے ہیں۔دونوں صوبوں میں بہتر گورنمنٹ، بہتر نظم و نسق، بہتر تو اور بہتر ذرائع آمد ورفت قائم ہوئے ہیں۔“ نواب علی چودھری نے بھی تقسیم کو مسلمانوں کے حق میں مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”اس سے مشرقی بنگال کے مسلمانوں میں جان پڑ گئی ہے۔انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حقوق اب بہت جلد تسلیم کئے جاتے ہیں اور پہلے کی نسبت ہماری اہمیت بڑھ گئی ہے۔“ ایک اور مسلمان لیڈر سردار علی نے تقسیم بنگال کے خلاف ہندوا ایجی ٹیشن کے بارے میں کہا کہ ”یہ تمام شور وغل جو مچایا جارہا ہے اور یہ تمام تحریکیں جو شروع کی گئی ہیں ان کا اس کے سوا کوئی اور مقصد نہیں کہ اس صوبے میں جہاں ہندو اقلیت میں ہیں، وہاں ان کی طبقاتی برتری کو بحیثیت ایک جماعت کے بر قرار رکھا جائے۔“ تقسیم کے اس فیصلے سے نہ صرف مشرقی بنگال بلکہ کلکتہ کے مسلمان بھی خوش تھے جن کو تقسیم سے کوئی فائدہ