مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 98
98 نے یہاں تک لکھ دیا کہ بادشاہ اور رانی کو ہند وPantheon میں شامل کر لیا جائے۔دوسری طرف حکومت کے اس فیصلے نے مسلمانوں میں غم وغصے کی ایک لہر دوڑا دی۔نواب وقار الملک نے ایک مضمون میں لکھا کہ ” مسلمانوں کے حق میں علیحدگی خدا کی طرف سے ایک رحمت ثابت ہوئی اور 66 فیصد آبادی کے جو حقوق اس سے پہلے گورنمنٹ اور عام نگاہوں سے اوجھل تھے ، روز روشن کی طرح سامنے آگئے اور روز بروز مسلمانوں کی حالت اس صوبے میں ترقی کرنے لگی۔ایسی حالت میں دونوں صوبوں کا الحاق بغیر کسی ایسے اطمینان دلانے کے کہ آئندہ مسلمانوں کی حفاظت کس طرح ہو گی۔19 جناب پر وفیسر احمد سعید صاحب ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کا تذکرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔محمڈن ایجو کیشن کانفرنس ڈھاکہ کے اجلاس کے بعد مسلمانوں کی سیاسی جماعت قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔30 دسمبر 1906ء کو نواب صاحب نے اس جلسہ کی صدارت کی۔نواب صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا 'آج ہم جس غرض کے لئے جمع ہو رہے ہیں وہ کوئی نئی ضرورت نہیں۔ہندوستان میں جس وقت سے کانگرس کی بنیاد پڑی ہے اسی وقت سے یہ ضرورت پید اہو گئی تھی۔مسلمان ہندوستان میں اپنی دوسری ہمسایہ قوم سے ایک خمس کے قریب ہیں اور یہ ایک صاف مضمون ہے کہ اگر خدا نخواستہ کسی وقت برٹش حکومت ہندوستان میں قائم نہ رہے تو اس وقت وہی قوم ہم پر حکمران ہو گی جو تعداد میں ہم سے چار حصہ زیادہ ہے اور اب صاحبو ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے دل میں اس بات پر غور کرے کہ ہماری جان، ہمارا مال، ہماری آبرو، ہمارا مذہب خطرے میں ہو گا۔آج جبکہ برٹش کی زبر دست حکومت اپنی رعایا کی محافظ ہے، جس قسم کی مشکلات ہم کو بسا اوقات اپنے ہمسایہ دوستوں سے پیش آتی رہتی ہیں، اس کے نظائر کم و بیش ہر صوبہ میں موجود ہیں تو وائے اس وقت پر جبکہ ہم کو ان لوگوں کا غلام ہو کر رہنا پڑے جو اور نگ زیب کا بدلہ صد ہابرس بعد آج ہم سے لینا چاہتے ہیں۔جلسہ کے بعد آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا۔نواب صاحب کو اس نئی جماعت کا جوائنٹ سیکرٹری مقرر کیا گیا۔“20