مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 15 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 15

15 جن کے چہرے ایسی ڈھالوں کی مانند ہونگے جن پر ہتھوڑے مارے گئے ہوں گے۔2 گرجاگھر سے بر آمد ہونے والا دجال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے وقت انگریزوں کی پشت پناہی میں پوری دنیا پر محیط ہو چکا تھا جس کے خلاف اسلام کے بطل جلیل اور فتح نصیب جرنیل نے ایسا عظیم الشان قلمی و لسانی جہاد کیا جس کی نظیر گزشتہ چودہ صدیوں میں نہیں مل سکتی۔خراسانی دجال جو قدیم ایران کے پیغمبر اشتراکیت مزدک کے بنیادی نظریہ کے احیاء اور نشاۃ ثانیہ کی خاطر اٹھا، اگر چہ ابتداء ہی سے عملاً کارل مارکس کے نظریات کا پاسبان تھا مگر اسے عالمی شہرت اشتراکی روس کی بدولت نصیب ہوئی جس کا نشان ہی ہتھوڑا ہے۔اور یہ واقعہ خلافت ثانیہ کے اوائل میں رو نما ہوا جس کے بارہ سال بعد آل انڈیا نیشنل کانگرس کے سوشلسٹ بلاک کے لیڈر پنڈت جواہر لال کی سیاسی سازش اور جناب ابو الکلام آزاد کی نگرانی میں 31 دسمبر 1929ء کے اجلاس راوی کے دوران معرض وجود میں آئی۔انڈیا ایکٹ کے نفاذ سے چند ماہ قبل اُس نے انگریزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ” قادیانیوں“ کو مسلمانان ہند سے الگ غیر مسلم اقلیت تسلیم کرے جس کا واحد مقصد برٹش انڈیا کی مسلم آبادی کو کم کر کے کانگرس کو ملک کی نمائندہ جماعت ثابت کرنا تھا۔احرار کی پچاس سالہ سرگرمیاں اسی مطالبہ کے گرد گھومتی رہیں جس کے بعد بالآخر 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان کی سوشلسٹ حکومت نے سوشلسٹ علماء سے گٹھ جوڑ کر کے یہ مطالبہ قبول کر لیا۔اس باب میں اسی احراری مطالبہ کے اسباب و علل اور اُس کے پردہ میں کار فرما عناصر ، شخصیات اور بعض عالمی طاقتوں کی نشان دہی کی گئی ہے اور اُن کے طریقہ وار دات اور سیاسی اور مذہبی سرگرمیوں کا بھی نقشہ کھینچا گیا ہے۔اور اس کے ہر گوشہ اور ہر پہلو کا واقعاتی ثبوت مستند مآخذ و مصادر اور ناقابل تردید معلومات سے فراہم کیا گیا ہے۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی ترتیب قرآنی تاریخ کی مرہون منت ہے اور اوّل سے آخر تک اس سے راہنما اصول کے طور پر اکتساب فیض کیا گیا ہے۔اس زاویہ نگاہ سے اس میں بیان شدہ تاریخی واقعات کو قرآن مجید اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت و حقانیت کا نشان قرار دیا جائے تو ہر گز مبالغہ نہ ہو گا۔تاریخ کار ہنما اصول دینی اور روحانی سلسلوں خصوصاً اسلام کے دور ثانی اور جمالی ظہور پر قلم اٹھانے والے وقائع نگاروں اور تاریخ نویسوں کے لئے سلطان القلم سید نا حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام کا یہ رہنما اصول قیامت تک سنہری حروف میں لکھا جائے گا کہ