مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 16
16 اس عالم کا مورخ اور واقعہ نگار بجز خدا کے کلام کے اور کوئی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔جس کے مضامین صرف قیاسی اٹکلوں میں محدود نہیں بلکہ وہ عقلی دلائل کے علاوہ به حیثیت ایک مورخ صادق، عالم ثانی کے واقعات صحیحہ کی خبر بھی دیتا ہے اور چشم دید ماجر ابیان کرتا ہے۔“3 قرآن مجید زمانه قبل از تاریخ اور بعد از تاریخ دونوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے :- 666 ذلكَ مِنْ أَنْبَاءِ الْقُرى نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْهَا قَآئِمُ وَحَصِيدٌ۔(هود۔101) یہ اُن بستیوں کی خبروں میں سے (ایک خبر ) ہے جس کا قصہ ہم تیرے سامنے بیان کرتے ہیں۔کتاب اللہ نے علم تاریخ کو فلسفہ اور نفسیات کی روشنی میں دیکھنے اور پس پردہ کار فرما عوامل کو تلاش کر کے واقعات کی حقیقی کڑیوں کو ملانے کی ہدایت کی ہے چنانچہ وہ بار بار أَفَلا تَعْقِلُونَ (البقرہ۔77) کی تاکید فرماتا ہے اور اس امر کو فضل عظیم سے تعبیر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ملی ایم پر کتاب کے ساتھ ہی حکمت بھی نازل کی ہے اور وہ علوم بھی سکھائے جن سے آپ نا آشنا تھے۔علوم اس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہر چیز اور ہر واقعہ کی حکمت ہوا کرتی ہے جسے سیکھنے کی کوشش کرو۔اس حکمت کا دوسر ا نام فلسفہ ہے اور دوسرے علوم کی طرح علم تاریخ کے فلسفہ سے بھی قرآن بھرا ہوا ہے۔مورخ اسلام علامہ ابن خلدون (ولادت 1323ء۔وفات 1406ء) نے قرآن مجید ہی کے مطالعہ سے فلسفہ تاریخ کی بنیاد ڈالی اور تنقید اخبار اور روایت کو درایت سے جانچنے کے بہترین اصول ایجاد کر کے دنیا بھر میں تہلکہ مچا دیا۔علامہ کا مقدمہ ابن خلدون“ فلسفہ تاریخ کا مسلم شاہکار ہے جس نے مغربی محققین سے بھی خراج تحسین وصول کیا ہے۔آپ سے قبل ابو جعفر محمد بن جریر الطبری (متوفی 922ء) نے بھی انہی اصولوں کو پیش نظر رکھا ہے جو بعد ازاں علامہ ابن خلدون نے قرآن کی روشنی میں وضع کر کے فلسفہ تاریخ میں انقلاب برپا کر دیا۔چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے 24 جنوری 1944ء کو اسلامی نقطہ نگاہ سے تاریخ نویسی پر بلیغ روشنی ڈالتے ہوئے بیان فرمایا :- ابن جریر نے ایسی طرز پر تاریخ لکھی ہے کہ وہ خود راہ نمائی کرتی ہے کہ ہم کس کو لیں اور کس کو نہ لیں۔ابن جریر ان تمام اصول کو جن کو ابن خلدون وغیرہ نے بیان کیا، عمل میں لے آیا ہے۔پس اسلام میں اختلافات کے صحیح اسباب کا مطالعہ کرتے کرتے مجھے خدا تعالیٰ کے فضل سے ابن جریر ایک ایسا مورخ مل گیا جس کا