مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 218 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 218

218 مجھ پر اسلام کا اندرونی اختلاف سب سے زیادہ شاق گزرا تھا اور نفس دین ووحی کے بعد اس سے زیادہ شک و انکار کی طرف لے جانے والی اور کوئی چیز نہ تھی۔اس بارے میں جس قدر پچھلے اصول وضعیہ ، رفع اختلاف اور وجوہ ترجیح وانتخاب کے لئے پیش نظر رہتے تھے اور موجب اطمینان بھی ہو جاتے تھے ، وہ ایک ایک کر کے آئے اور گرد وغبار کی طرح اڑ گئے۔کوئی بات بھی وزنی اور ٹھہر جانے والی سامنے نہ آئی۔اس زمانے میں المعتزلہ کی ترتیب کی وجہ سے بکثرت کتب و مقالات کا مطالعہ کر چکا تھا اور کر رہا تھا۔عقائد و کلام میں بھی نظر نسبتا بڑھ چکی تھی۔اور یہ بات سب سے بڑی آفت ہو گئی تھی کہ جس قدر میں آگے بڑھتا تھا، تاریکی بڑھتی جاتی تھی اور روشنی ناپید تھی۔اسی زمانے میں میں نے ادیانِ مشہورہ کی طرح اسلامی مذاہب کا بھی بقد را مکان مطالعہ کرنا چاہا لیکن اب مطالعہ و نظر ہی اس زہر کی تیزی بڑھا رہا تھا جس کا جام میرے ہاتھ میں تھا! میرے خیالات کو ترتیب کے ساتھ ان سوالات میں بیان کیا جا سکتا ہے: (۱) اصحاب ادیان و شرائع کے مبادیات مثلاً وجود باری، بقائے روح اور معاملات معاد، ہم کیونکر اس کا یقین حاصل کر سکتے ہیں اور کیوں ماورائے احساس کے اعتراف پر مجبور ہوں ؟ (۲) لیکن اگر حقیقت اثبات میں ہے اور دین و شریعت من جانب اللہ ہے تو اس میں اختلاف و تعدد کیوں ہے اور کیوں تمام نوع و عرض پر ایک ہی دعوت نہیں بھیجی گئی؟ پیروبے (۳) پھر ایک مذہب کے مان لینے کے بعد بھی نزاع و کشاکش سے نجات نہیں ملتی کیونکہ پھر وہی یکساں وعاوی کا تزاہم موجود ہے۔خود اس مذہب کی اصلیت وصداقت، متخالف دعاؤں میں گم ہو گئی ہے اور ایک ایک مذہب کے پیرو بے شمار مذہبوں میں بٹ گئے ہیں۔اسلام میں سب سے پہلے بڑے بڑے اصولی مذاہب ہیں مثلاً شیعہ، سنی، معتزلی، اہل الظواہر و غیر ذالک۔پھر ان کی بھی بکثرت فروع وشعب ہیں۔اصولی، احباری اشعری، حنبلی اور مذاہب فقہیہ وکلامیہ۔ایک ہی دعویٰ اور بے شمار زبانیں۔کون سا ذریعہ ہے کہ ایک کو مان لیں اور سب کو پس پشت ڈال دیں ؟