مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 217
217 کھو چکا تھا۔لیکن پھر بھی ایک آخری خفیف سا لگاؤ باقی تھا۔وہ بھی اتنا قوی نکلا کہ اس کے توڑنے کے لئے ذہن کو اپنی ساری قوت خرچ کر دینی پڑی۔صبح کے قریب میں نے فیصلہ کر لیا۔ٹھیک صبح صادق کا وقت تھا۔میں جب سونے کی کوشش کرنے لگا تو دل میں ایک سخت نا قابل دفع یاس و حسرت پیدا ہوئی، ایسے جیسے کسی مایوس وداع کے بعد پیدا ہونی چاہئے۔ایسا محسوس ہوا کہ گویا ایک بڑی محبوب متاع جاتی رہی ہے اور پھر واپس نہیں ملے گی۔۔۔۔سورج نکل آیا مگر میں نے نماز نہیں پڑھی۔دن بھر یہ حالت رہی کہ کبھی ملامت کا احساس جاگ اٹھتا اور کبھی دماغ میں تو ہمات سے آزادی کا فخر و غرور محسوس ہو تا! اس کے بعد بالالتزام نماز ترک کر دی۔تھوڑے ہی دنوں کے بعد عید آگئی۔اس میں شرکت ناگریز تھی، چنانچہ دوگانہ عید پڑھا، لیکن پھر اس پر سخت ندامت ہوئی اور یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ اس سے بھی اجتناب کرنا چاہئے۔شک واضراب نے جس طرح انکار و الحاد تک ارتقا کیا، اسے مختصر انگر ترتیب کے ساتھ بیان کرنا چاہئے۔عقائد کے اذعان ویقین کا خاتمہ ہو گیا اب پوری طرح شک نے جگہ پکڑ لی اور اپنے فہم و نظر کے مطابق از سر نو مذہب اور علوم کا مطالعہ شروع کیا۔اس نے ایک دوسری مصیبت پیدا کر دی یعنی خود مذاہب بھی باہم دگر نزاع اور صرف خلاف تعدد نہیں بلکہ خلاف تضاد اور بجائے رفع اختلافات اور دعوت یقین کے خود نفس مذہب کا موجب نزاع و خلاف اس طرح ہو جانا کہ تاریخ جمیعتہ بشریہ میں اس سے بڑھ کر کوئی انسانی نزاع نہیں ملتی۔یہ قطعی ہے کہ حقیقت و صداقت میں نہ تو تعدد ہو سکتا ہے نہ اختلاف، اور اگر ایسا ہے تو مختلف و متضاد صدائیں حقیقت نہیں ہو سکتیں۔اس سے بھی سخت تر میری مصیبت تھی یعنی ہر دین و تشریع کے متبعین کے داخلی اختلافات اور تعد دو تخرب پر نظر ڈالتا تھا تو اس وقت بجز اختلاف و نزاع کے اور کچھ نظر نہ آتا تھا۔مذاہب خود مختلف۔ہر مذہب میں پھر اختلاف و نزاع۔ان کے فروع شعب میں بھی مزید تفرقه واشتات، کیونکر نزاع و اختلافات کا یہ مکمل سلسلہ حق وصداقت ہو سکتا ہے!