مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 219
219 دعاوی یکساں، دلائل تقریباً یکساں پیش کردہ ثمرات یکساں، جزم واعتقاد یکساں اور قطعی ذریعہ ترجیح مفقود۔ٹھیک جس طرح ایک مسیحی صرف اپنے ہی کو مستحق نجات سمجھتا ہے اسی طرح برہمن اور اسی طرح ایک مسلمان۔یقین کیوں کر حاصل کیا جاسکتا ہے ؟ اس کے بعد یکا یک دو سر اسمندر موجیں مارنے لگتا تھا۔خود یقین کیا ہے ؟ اور یقین کیونکر حاصل ہو سکتا ہے ؟ خود اس کے وسائل اور براہین میں بھی وہی اختلاف و نزاع موجود۔خیالات کی بے قیدی و وحشت پھر اچانک ایک دوسری وادی کی طرف رہنمائی کرتی تھی اور ان تمام گوشوں سے ہٹ کر بالکل ایک نئے گوشے میں قدم پہنچ جاتے تھے۔خود زندگی کیا ہے ؟ اور زندگی کا مقصد کیا ہے ؟ کیوں کر وہ یقین حاصل کیا جائے جو زندگی اور زندگی کے مقاصد اسی طرح واضح کر دے جس طرح تمام محسوسات ؟ ایک چیز تو یقینی ہے یعنی وجود کے مان لینے کے بعد ( کیونکہ اس طرف سے بھی اطمینان نہ تھا) ہمارے محسوسات قطعی اور یقینی ہیں تو اس طرح ہمارے اندر یقین و علم کا اگر کوئی واسطہ رکھا گیا ہے تو وہ احساس ہی ہے۔پھر کیوں اتنی اہم حقیقت محسوسات سے الگ ہو کر آتی ہے اور کیوں محسوسات میں نہیں ہے ؟ صحیح یاد ہے کہ ایک دن میں نے ابن الرشد کی کشف الادلۃہ دیکھی اور مجھے اس درجہ وہ حقیر و ناچیز نظر آئی کہ اپنی پچھلی رایوں پر سخت تاسف ہونے لگا۔ایک زمانے میں اسے علم و حکمت کا سب سے بڑا سرچشمہ سمجھتا تھا۔میں نے خیال کیا کہ دنیا کی گمراہی اور تاریکی کا سب سے بڑا سر چشمہ عامۃ الناس کا جہل نہیں بلکہ خواص اہل مذہب کا ادعائے علم و حکمت اور اوہام مذہبی کو نظریات فلسفہ کی طرح ظاہر کرنے کی کوشش۔میں نے ابن رشد کا استدلال بقائے روح میں پڑھا اور اس کے صرف ایک معنے سمجھ میں آئے یعنی روح کا وجود ہی نہیں ہے۔رفتہ رفتہ دماغ کے عجز نے انکار کی صورت اختیار کر لی اور صاف نظر آنے لگا کہ ادعائے حکمت اور روشن خیالی کے بعد ہم جو کچھ سمجھتے رہے ، وہ بھی وہم و جہل تھا اور روز بروز انکار میں جزم وصلابت بڑھتی گئی یہاں تک کہ اضطراب کی جگہ ایک طرح کا مایوس سکون پید اہو گیا۔گویا مشکل حل ہو گئی اور وہ یہی ہے کہ کچھ نہیں ہے۔۔۔۔