مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر

by Other Authors

Page 99 of 344

مطالبہء اقلیت کا عالمی پس منظر — Page 99

99 دہشت گردی کے المناک مناظر بر صغیر کے مشہور تاریخ دان جناب محمد عبد اللہ ملک ایم اے صدر شعبہ تاریخ، اسلامیہ کالج لاہور نے ہندوؤں کی سودیشی تحریک اور دہشت گردی کا نقشہ درج ذیل الفاظ میں کھینچا ہے۔و تقسیم بنگال کو منسوخ کرانے کے لئے انتہا پسند ہندوؤں نے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے 7 اگست 1908ء کو سودیشی تحریک کا آغاز کیا۔جس کا مقصد یہ تھا کہ ملکی اشیاء اور غیر ملکی مصنوعات کے استعمال کا پر پیگنڈا کیا جائے اور غیر ملکی مال کا بائیکاٹ کیا جائے۔بالفاظ دیگر بر طانوی مال کا بائیکاٹ کر کے برطانوی تجارت کو نقصان پہنچایا جائے تاکہ حکومت اُن کے مطالبہ کو تسلیم کرے۔نتیجہ غیر ملکی مصنوعات بند ہو گئیں اور اور جہاں کہیں غیر ملکی چیز نظر آئی اسے بر سر عام نذر آتش کر دیا جاتا۔سودیشی تحریک کو کامیاب بنانے کے لئے دکانوں کی ناکہ بندی کی جاتی۔گاہکوں کو مال خریدنے سے جبر آرو کا جاتا۔ابتدامیں یہ تحریک محض انگریزوں کے خلاف شروع کی گئی تھی لیکن بتدریج مسلمانوں کو اس کی لپیٹ میں لیا جانے لگا۔چنانچہ مسلم تاجروں کو دھمکیاں دی جانے لگیں کہ وہ انگریزی مال کی خرید وفروخت سے باز رہیں۔سودیشی تحریک کی تائید میں کانگرس نے کھدر کے کپڑے کا استعمال حب الوطنی کی علامت قرار دی۔نتیجہ یہ ہوا کی ہندو تاجروں نے خوب نفع کمایا جبکہ برطانوی تاجروں اور صنعت کاروں کو بھاری نقصان پہنچا۔کانگرس نے مانچسٹ، چیمبر آف کامرس پر دباؤ ڈالا کہ وہ بر صغیر میں تجارتی مفاد حاصل کرنا چاہتا ہے تو اُسے حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ تقسیم بنگال منسوخ کر دے۔1908ء میں ہندوؤں کی اسی مخالفانہ تحریک نے باقاعدہ دہشت گردی کی صورت اختیار کرلی جس کے نتیجہ میں ہر طرف بدامنی، لاقانونیت اور قتل وغارت کی وارداتوں میں اضافہ ہو گیا۔گورنر کی گاڑی کئی دفعہ پٹڑی سے اتارنے اور تباہ کرنے کی کوشش کی گئی۔وائسرائے ہند لارڈ منٹو پر ناکام قاتلانہ حملہ کیا گیا۔بنگال میں ایک ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ پر بم پھینکا گیا جس سے دو انگریز عور تیں ہلاک ہو گئیں۔الغرض بم پھینک کر اور پستول سے قتل کے متعدد واقعات ہونے لگے۔پلوں کو اڑانے،