مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 72 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 72

144 مسلم نوجوانوں کے سند کارنامے 143 مسلم نوجوانوں کے ارنامے قرض کی وصولی میں آسانی مقروض کے ساتھ نرمی اور احسان کا سلوک کرنا بھی اعلیٰ اخلاق میں سے ہے اور اسلام نے اس کی خاص طور پر تعلیم دی ہے۔اس لیے صحابہ اس کا خاص خیال رکھتے تھے۔-1- حضرت ابو قتادہ ایک نوجوان صحابی تھے۔ایک مسلمان پر ان کا قرض آتا تھا۔یہ مانگنے کے لیے جاتے مگر ملاقات نہ ہوتی۔اور ممکن ہے وہ عمدا سامنے نہ آتا ہو کیوں کہ تنگ دستی انسان کے لیے سخت ندامت کا موجب ہو جایا کرتی ہے۔ایک روز یہ گئے تو بچے نے باہر آ کر بتادیا کہ میرے والد صاحب گھر میں موجود ہیں۔آپ نے آواز دی اور کہا کہ مجھے علم ہو گیا ہے کہ تم گھر میں ہو۔اس لیے ضرور باہر آ جاؤ۔آخر وہ آیا تو آپ نے پوچھا کہ چھپنے کی کیا وجہ تھی۔اس نے کہا کہ بات دراصل یہ ہے کہ میں بہت تنگ دست ہوں۔عیال دار آدمی ہوں۔آمدنی محدود ہے اس لیے قرض ادا نہیں کرسکا۔اور ندامت کی وجہ سے سامنے بھی نہیں ہوتا رہا۔آپ نے کہا کہ تمہیں خدا کی قسم واقعی تمہاری یہی حالت ہے۔اس نے قسم کھا کر کہا تو آپ آبدیدہ ہو گئے اور سارا قرض اسے معاف کر دیا۔2- حضرت ابوالیسر کعب بن عمر و بھی نو جوان صحابہ میں سے تھے۔بنو حرام کا ایک شخص ان کا مقروض تھا۔اور چونکہ ادائیگی کی استطاعت نہ تھی اس لیے سامنے آنے سے گریز کرتا تھا۔آخر ایک دن وہ ملا اور اپنے فقر و افلاس کی داستان ایسے الم ناک پیرا یہ میں بیان کی کہ آپ کا دل بھر آیا۔کاغذ منگوا کر اس پر وصولی کر دی اور کہا کہ اگر کبھی مقدرت ہوئی تو ادا کرد دینا ور نہ میں معاف کرتا ہوں۔حوالہ جات ا۔(مسند احمد ج 5 ص 308) ۲۔(مسلم ج 2 ص 45) ادائیگی قرض قرض کی وصولی میں مقروض کے ساتھ آسانی اور سہولت کے معاملہ کی مثالیں آپ پڑھ چکے ہیں۔اس کا دوسرا حصہ اپنے قرض کی ادائیگی ہے۔صحابہ کرام جہاں دوسروں سے اپنے قرض کی وصولی میں سہولت کا معاملہ کرتے تھے وہاں اپنے قرض ادا کرنے میں نہایت محتاط تھے۔چند واقعات درج ذیل ہیں۔1- حضرت عبداللہ بن مسعود نے ایک مرتبہ کسی شخص سے ایک لونڈی خریدی۔لیکن قیمت ابھی بے باق نہ ہوئی تھی کہ وہ شخص مفقود الخبر ہو گیا۔حضرت عبداللہ ایک سال تک اس کی تلاش میں رہے لیکن وہ نہ ملا۔آخر جب اس کے ملنے سے مایوس ہو گئے تو ایک ایک دو دو درہم کر کے اس کی طرف سے صدقہ کر دیا۔ساتھ یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر وہ واپس آگیا تو اسے بھی قیمت ادا کر دوں گا۔اور یہ صدقہ میری طرف سے ہوگا۔2 حضرت زبیر بن العوام کے متعلق یہ ذکر کیا جاچکا ہے کہ باوجود تمول و ثروت کے وفات کے وقت آپ پر بائیس لاکھ روپیہ قرض تھا۔آپ جب ایک جنگ میں شرکت کے لیے روانہ ہونے لگے تو گھر والوں سے کہا کہ مجھے اپنے قرض کا سب سے زیادہ خیال ہے۔اگر میں شہادت پاؤں تو میرا مال و متاع فروخت کر کے سب سے پہلے میرا قرض ادا کرنا۔حضرت زبیر کی مذکورہ بالا وصیت کے مطابق ان کے صاحبزادہ کی طرف سے مسلسل چار سال تک حج کے موقعہ پر یہ اعلان کرایا جاتا رہا کہ میرے والد کے ذمہ کسی کا قرض ہو تو مجھ سے وصول کرے۔-4 فیاضی کے عنوان کے ماتحت یہ واقعہ درج ہو چکا ہے کہ حضرت سعید بن العاص اس قدر فیاض تھے کہ اگر کسی وقت کچھ پاس نہ ہوتا تو حاجت مند کو ہنڈی تحریر کر کے دیتے تھے کہ پھر آکر وصول کر لے۔ایک دن مسجد سے واپس آرہے تھے کہ ایک شخص ساتھ ہولیا۔آپ نے www۔alislam۔org