مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 73 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 73

146 مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 145 مسلم نوجوانوں کے نامے اس سے پوچھا۔کیا کوئی کام ہے تو اس نے کہا نہیں۔آپ اکیلے تھے۔یونہی ساتھ ہولیا۔آپ نے کاغذ قلم اور دوات منگوائی اور اسے بیس ہزار کی ہنڈی تحریر کر دی۔اتفاق کی بات ہے کہ آپ کی وفات ہوگئی لیکن وہ شخص اس ہنڈی کو کیش نہ کر سکا۔وفات کے بعد اس شخص نے وہ ہنڈی ان کے صاحبزادہ حضرت عمر کے سامنے پیش کی تو انہوں نے اسے فور التسلیم کر لیا اور بلا چون و چرا رو پیادا کر دیا۔ہمارے زمانہ کے لوگوں کو اس واقعہ پر غور کرنا چاہیے۔آج کل یہ حالت ہے کہ بعض لوگ خود جو قرض لیتے ہیں اسے بھی ادا کرنے میں لیت و لعل کرتے اور قرض خواہوں کو سخت پریشان کرتے ہیں۔اور پھر والدین کے قرضہ کو ادا کرنے والے تو بہت ہی کم ہیں۔لیکن اس نوجوان نے اتنی گراں قدر رقم باپ کی طرف سے ادا کی۔حالانکہ یہ قرض نہ تھا۔بلکہ محض ایک عطیہ تھا اور اگر وہ چاہتے تو کہہ سکتے تھے کہ میں اس کا ذمہ دار نہیں لیکن انہوں نے اس بات کو پسند نہ کیا کہ والد نے جو عطا کی تھی اس کی ادائیگی نہ کریں۔5- حضرت عبد اللہ بن عمر جب غزوہ احد پر جانے کے لیے تیار ہوئے تو اپنے لڑکے حضرت جابر سے فرمایا۔کہ اس غزوہ میں ضرور شہید ہو جاؤں گا۔مجھ پر جو قرض ہے اسے ادا کرنا اور اپنی چھ بہنوں کے ساتھ حسن معاملات کرنا۔باوجود یہ کہ اتنے بڑے کنبہ کی پرورش کا بار حضرت جابر پر تھا وہ باپ کے قرض کو جلد از جلد ادا کرنا اس قدرضروری سمجھتے تھے کہ جب کھجور کی فصل تیار ہوئی تو انہوں نے پوری دیانت کے ساتھ تمام قرض ادا کیا۔اور فرمایا کہ میں اس بات کے لیے بالکل تیار ہوں کہ اپنی بہنوں کے پاس ایک کھجور بھی نہ لے کر جاؤں لیکن قرض ادا کر دوں۔6 قرض کو ادا کرنے کا خیال صحابہ کرام کو اس طرح دامن گیر رہتا تھا کہ وہ اپنی ضروریات کی اشیاء بیچ کر بھی اس سے سبکدوش ہونے کے لیے تیار رہتے تھے۔ابن حداد ایک صحابی تھے جن پر ایک یہودی کے چار درہم قرض تھے۔اس نے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں کر دیا۔استغاثہ کیا تو آپ نے تین بار اس صحابی سے فرمایا کہ یہودی کا حق اسے ادا کرو۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے پاس کچھ نہیں۔کہاں سے ادا کروں۔اس پر آنحضرت یہ تو خاموش ہو گئے مگر حضرت ابن حداد کو خیال آیا۔چنانچہ آپ اٹھے اور بازار میں گئے۔اپنے عمامہ کو اتار کر اس سے تہبند کا کام لیا اور تہبند کو چار درہم پر فروخت کر کے یہودی کا قرض ادا آنحضرت مہ خود قرض کی ادائیگی اور قرض خواہ کی دل جوئی کا خاص خیال رکھتے تھے۔اور در اصل صحابہ کرام نے جو اخلاق سیکھے وہ آپ ہی سے سیکھے تھے۔ایک یہودی زید بن سعنہ کا کچھ قرض آنحضرت ﷺ کے ذمہ تھا۔ایک دن وہ آنحضرت ﷺ کی مجلس میں آیا۔قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا اور نہایت ناشائستہ باتیں کرنے لگا۔یہاں تک کہہ گیا کہ تم بنی عبدالمطلب بہت نادہندہ ہو وغیرہ وغیرہ۔حالانکہ حسب معاہدہ قرض کی ادائیگی کی معیاد میں ابھی تین روز باقی تھے۔اور اس کا تقاضا قبل از وقت تھا۔صحابہ کرام کو اس کی بے ہودہ کلامی سخت ناگوار گزری۔اور حضرت عمرؓ نے اس کے ساتھ کچھ درشتی کی لیکن آنحضرت مہ نے اس سے منع فرمایا اور فرمایا۔کہ لازم ہے اس کا قرض ادا کر دو۔اور ہیں صاع جو زیادہ دے دو۔آنحضرت مہ کی اس خوش معاملکی کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ مسلمان ہو گیا۔ا۔( بخاری کتاب الطلاق) ۳۔(بخاری کتابالجهاد) ۵۔( بخاری کتاب المغازی) حوالہ جات ۲۔( بخاری کتاب الطلاق) ۴۔(استیعاب ج 2 ص 185) ۶- (اصابہ زیر لفظ عبد اللہ بن ابی حداد ) ؟ www۔alislam۔org