مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 71 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 71

142 مسلم نوجوانوں کے 141 مسلم نوجوانوں کے نامے۔بھی ان کی سادگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔اور انہوں نے معلم ربانی سے جو تعلیم حاصل کی تھی اسے کسی حالت میں بھی نظر انداز نہیں کیا۔نہ کھانوں میں اسراف کے عادی ہوئے اور نہ پہننے میں، شادی بیاہ کے موقع پر بھی اس سادگی کو بدستور قائم رکھتے تھے۔حتی کہ شہنشاہ کونین سرور دو صلى الله عالم ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرا کی شادی ایسے رنگ میں کی کہ آج کوئی معمولی سے معمولی حالت رکھنے والا مسلمان بھی کرنا گوارا نہ کرے گا۔مسلمان شادی بیاہ پر آج جس قدر اسراف کرتے ہیں اس کا مقابلہ آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے ساتھ کرتے ہوئے شرم آ جاتی ہے۔اگر استطاعت ہو تو ایک حد تک جائز خرچ کو گوارا بھی کیا جاسکتا ہے لیکن آج جو مصیبت در پیش ہے وہ یہ ہے کہ پاس نہ ہونے کی صورت میں قرض اٹھایا جاتا ہے۔جو بعض صورتوں میں کئی پشتوں تک ادا نہیں ہوتا اور دادا کی غلطی پوتوں تک کی زندگی کو اجیرن کیے رکھتی ہے۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں دین کی راہ میں قربانیوں کا رنگ اور تھا۔اور آج بالکل اور ہے۔آج سب سے زیادہ مالی قربانیوں کی ضرورت ہے۔اور ظاہر ہے کہ جب تک انسان اپنی ضروریات کو محدود کر کے اپنی آمدنی میں سے کچھ بچت نہ کرے وہ مالی قربانی کرنے کے قابل کسی صورت میں نہیں ہوسکتا۔اور اسی وجہ سے جماعت احمدیہ کے امام حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی نور اللہ مرقدہ نے مخالفین کے مقابلہ میں جماعت کی مضبوطی کے لیے جو تحریک کی اس میں سادہ زندگی اختیار کرنے پر خاص زور دیا گیا ہے۔سادہ کھانا، سادہ کپڑے پہنا،ضروریات سے زیادہ کپڑے نہ بنوانا اور اس طرح کے غیر ضروری اخراجات مثلاً عورتوں کے لیس، فیتہ، گوٹا، کناری اور پھر بے فائدہ بلکہ مخرب الاخلاق اخراجات مثلا سینما، تھیٹر، سرکس وغیرہ تماش بینیوں کی ممانعت فرمائی ہے۔اور ان باتوں پر عمل کرنا جہاں ہمارے لیے اخروی نجات کا ذریعہ بن سکتے ہے۔وہاں ہمیں طرح طرح کی تمدنی اور اقتصادی پریشانیوں سے بھی نجات دلا سکتا ہے۔اور یہ ایک ایسی مفید اور مبنی یہ دور اندیشی تجویز ہے کہ اگر آج مسلمان من حیث القوم اسے اختیار کر لیں تو جہاں ایک طرف وہ اپنے پیغمبر ﷺ اور بزرگان دین کے نقش قدم پر چل کر ثواب حاصل کریں گے۔وہاں تمدنی مشکلات سے بھی نجات حاصل کر سکیں گے۔اور اقتصادی حالت کی درستی کے ساتھ اس قابل ہوسکیں گے کہ قومی طور پر ترقی کرسکیں۔حوالہ جات ا۔(اصابہ ج 4 ص 177) (اسد الغابہ ج 3 ص 375) ۳۔(اسد الغابہ ج 3 ص 653) (ابن سعد ج 4 ص 88) ے۔(ابوداؤد کتاب النکاح) ۹۔(ابوداؤ د کتاب الخراج) ا۔(کنز العمال ج 12 ص 621) ۲۔( مسند احمد ج 1 ص 371) ۴۔(ابن سعد ج 1 ص 82)۔(ابن سعد ج 4 ص 161) ابن سعد ج 3 ص 139) ۱۰۔(کنز العمال ج 12ص635) ۱۲۔(کنز العمال ج 12ص624) ۱۳۔(کنز العمال ج12 ص 637) ۱۴۔(زرقانی ج 2 ص 8) www۔alislam۔org