مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 38 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 38

مسلم نوجوانوں کے نامے 75 5 حضرت ابو جندل بن سہیل مکہ میں ہجرت کے بعد مسلمان ہوئے اور ان کے والد نے ان کو قید میں ڈال دیا۔بیڑیاں پہنا دیں اور کئی برس تک انہیں مقید رکھا۔اس قید پر قناعت نہ کرتے ہوئے انہیں اس قدر زدو کوب کیا جاتا کہ بدن پر نشان پڑ جاتے تھے۔صلح حدیبیہ کے موقعہ پر کفار کی طرف سے شرائط طے کرنے کے لیے یہی سہیل در بار رسالت میں آیا تھا۔ابھی اس شرط پر بحث جاری تھی کہ قریش کا جو آدمی مسلمان ہو کر آئے گا اسے قریش کے پاس لوٹا دیا جائے گا کہ حضرت ابو جندل اسی طرح پابجولاں کسی نہ کسی طرح کفار کی نظروں سے بچتے ہوئے وہاں آپہنچے۔انہیں دیکھتے ہی ان کے والد نے کہا کہ ابو جندل کو واپس کر دیا جائے۔اور اس کے بغیر شرائط صلح طے کرنے سے انکار کر دیا۔آنحضرت یہ کو چونکہ معاہدات کا بہت خیال تھا۔آپ نے ابو جندل کو واپس جانے کا حکم دے دیا۔انہوں نے چاہا کہ یہ فیصلہ نہ ہو۔اپنی مصیبتوں کا نہایت درد ناک الفاظ میں ذکر کر کے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کے جذبات رحم کو اپیل کیا۔صحابہ بھی اپنے بھائی کی حالت کو دیکھ کر بے تاب و بے قرار ہوتے جاتے تھے۔اور کسی حالت میں انہیں واپس بھیجنا پسند نہ کرتے تھے۔وہ اس بات کو زیادہ پسند کرتے تھے کہ اپنی بھائی کو مصیبتوں سے نجات دلانے کے لیے اپنی جان قربان کر دیں۔ان کی تلواریں نیاموں میں تڑپ رہی تھیں مگر آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے سامنے کسی کو دم مارنے کا حوصلہ نہ تھا۔اس لیے خون کے گھونٹ پی کر خاموش رہ گئے۔حضرت ابوجندل کی اپیل پر آپ نے صرف یہی فرمایا کہ صبر سے کام لو۔اور واپس چلے جاؤ۔چنانچہ نہایت خاموشی سے واپس چلے گئے اور پھر انہی مصائب میں گرفتار ہو گئے۔لیکن پائے ثبات میں کوئی لغزش نہ آئی۔معرکہ احد کے بعد چند لوگ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ: تعلیم دین کے لیے چند معلمین ہمارے ساتھ بھیجے جائیں۔آپ نے ستر مشہور قاری ان کے ساتھ روانہ کیے۔جن میں سے ایک حضرت حرام بن ملحان تھے۔جب یہ مقدس قافلہ مسلم نوجوانوں کے کارنامے 76 منزل کے قریب پہنچا تو حضرت حرام نے ساتھیوں سے کہا کہ آپ لوگ ٹھہریں اور میں جاکر ان لوگوں کا حال دیکھتا ہوں۔چنانچہ آپ ان کے قبیلہ میں پہنچے اور آنحضرت ﷺ کی رسالت پر تقریر شروع کی۔ان بد بختوں کی نیت پہلے ہی بدتھی۔چنانچہ آپ تقریر کر رہے تھے کہ ایک شخص نے پیچھے سے اس زور سے تیر مارا کہ ایک پہلو کوتوڑتا ہوا دوسری طرف نکل گیا۔جب جسم سے خون کا فوارہ چھوٹا تو حضرت حرام نے اس سے چلو بھر کر منہ اور سر پھیرا اور فرمایا فزت و رب الکعبہ یعنی رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہو گیا۔آپ کے ساتھیوں کو یہ خبر پہنچی تو وہ بھی پہنچے اور لڑ کر شہادت حاصل کی۔بنا کر وند خوش رسے بخاک و خون غلطیدن خدا رحمت کند این عاشقانِ پاک طینت را 7 دین کی راہ میں صحابہ تکالیف کو جس قدر خوشی کے ساتھ برداشت کرتے تھے اس کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ ایک غزوہ میں سب کے پاس صرف ایک سواری تھی۔سفر لمبا تھا اور اکثر پا برہنہ تھے۔چلتے چلتے بعض کے پاؤں میں زخم ہو گئے۔بعض کے ناخن گر گئے۔زخموں کی وجہ سے صحابہ نے پاؤں میں چیتھڑے لپیٹ رکھے تھے۔اس وجہ سے اس غزوہ کا نام ہی ذات الرقاع پڑ گیا۔غزوہ احزاب میں صحابہ کے پاس سامان رسد اس قدر کم تھا کہ ایک ایک مٹھی جو اور تھوڑی سی چربی پر ہر ایک گزارہ کرتا تھا۔۔ایک غزوہ میں سامان رسد کی اس قدر قلت تھی کہ صحابہ کھجوروں کی گٹھلیاں چوس چوس کر پانی پی لیتے تھے۔10- ایک غزوہ میں صحابہ کو فی کس ایک کھجور ماتی تھی۔جس کو وہ بچوں کی طرح چوس چوس کر کھاتے اور پانی پی لیتے تھے۔اس کے علاوہ درختوں کے پتے جھاڑ لاتے اور انہیں پانی میں بھگو کر کھا لیتے تھے۔www۔alislam۔org