مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 37 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 37

74 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 73 مسلم نوجوانوں کے ارنامے دین کی راہ میں شدائد کی برداشت 1- حضرت عمار کے والد یاسر بن عامر یمن سے آکر مکہ میں آباد ہوئے تھے۔ان کے حلیف ابو حذیفہ نے اپنی لونڈی حضرت سمیہ کے ساتھ ان کی شادی کر دی۔جب مکہ میں آفتاب رسالت طلوع ہوا تو یہ تینوں بزرگ ابتداء ایام میں ہی قبول صداقت کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔حضرت عمار اس وقت عمر کی ابتدائی منازل طے کر رہے تھے۔مسلمانوں کی تعداد 30-35 ہی تھی کہ باپ ماں اور بیٹا مسلمان ہو گئے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ مکہ کے ذی وجاہت مسلمان بھی قریش کی ستم رانی سے محفوظ نہ تھے تو اس غریب الوطن خاندان کا کیا حال ہوگا۔بنی مخزوم نے اس خاندان کو سخت مظالم کا تختہ مشق بنایا۔بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان بے چاروں پر مظالم کی انتہا کر دی اور ایسی وحشت و بربریت کا ثبوت دیا کہ آج بھی اس کا ذکر آنے پر انسانیت کی جبین عرق ندامت سے تر ہو جاتی ہے۔دنیا میں سنگین سے سنگین جرائم پر اتنی شدید سزا کی مثال شاید ہی تاریخ پیش کر سکے جو ان بے بس اور بے کس لوگوں کو محض اسلام قبول کرنے پر دی جاتی تھی۔مختصر یہ ہے کہ حضرت عمار کی والدہ کو ابوجہل نے شرمگاہ میں نیزہ مار کر شہید کر دیا۔لیکن یہ انجام دیکھنے کے باوجود بھی وہ مستقل رہے۔اور ان کے قلوب میں نور ایمان کی جو شمع روشن ہو چکی تھی۔مظالم کی شدید ترین آندھیاں اور جبر وستم کے بے پناہ طوفان اسے گل نہ کر سکے۔حضرت یاسر بھی بوجہ ضعیف العمری ان شدائد سے جانبر نہ ہو سکے اور انتقال فرما گئے۔حضرت عمار کو قریش دوپہر کے وقت انگاروں پر لٹاتے ، پانی میں غوطے دیتے ایک مرتبہ انہیں انگاروں پر لٹایا جار ہا تھا کہ آنحضرت ﷺ کا اس طرف سے گزر ہوا۔آپ نے حضرت عمار کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایایـا نـار کـونی برداً وسلاما على عمار كما كنت على ابراهیم اچھا ہونے کے بعد آپ کی پیٹھ پر زخموں کے نشانات باقی رہے لیکن ان پیہم صدمات اور ان تکالیف کے باوجود جو خود حضرت عمار کو دی جاتی تھیں۔ان کے ایمان میں کوئی لغزش نہ آئی۔اور وہ نہایت پامردی سے اس پر قائم رہے۔ایمان ان کے نزدیک دنیا کی ہر چیز بلکہ اپنی جانوں سے بھی زیادہ قیمتی چیز تھی۔جس کی حفاظت وہ ہر چیز سے ضروری سمجھتے تھے۔! 2۔حضرت بلال نے عالم جوانی میں اسلام قبول کیا مگر آپ غلام تھے۔اس زمانہ میں عرب کے غلام جو حیثیت رکھتے تھے وہ تاریخ دان اصحاب سے پوشیدہ نہیں۔کسی غلام کا اپنے آقا کی مرضی کے خلاف ادنیٰ سے ادنیٰ حرکت کرنا بھی گویا اپنی موت کو دعوت دینا تھا۔اور پھر اسلام کو قبول کرنا جسے مٹا دینے کے لیے کفار کی تمام طاقتیں وقف تھیں۔کوئی آسان بات نہ تھی۔امیہ بن خلف آپ کو چلچلاتی دھوپ میں جبکہ ملکہ کی زمین آگ اگل رہی ہوتی گرم ریت پرلٹا تا اور سینہ پر بھاری پتھر رکھ دیتا تھا۔تا کہ آپ حرکت نہ کرسکیں۔اور کہتا کہ تو بہ کرو ور نہ یونہی سسک سسک کر جان دینی ہوگی۔مگر آپ کی زبان سے عین اس حالت میں بھی احد احد کی آواز نکلتی تھی۔یعنی اللہ ایک ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں۔-3 حضرت خباب بن ارت کو بھی طرح طرح کے مظالم کا تختہ مشق بنایا جاتا تھا۔وہ خود بیان کرتے ہیں کہ مشرکین انگارے دھکاتے اور مجھے ان پر لٹا دیتے اور اس پر بھی جب ان وحشیوں کا شوق ستم رانی پورا نہ ہوتا تو ایک شخص سینہ پر سوار ہو جاتا کہ جنبش نہ کر سکوں۔اور اس طرح اس وقت تک مجھے لٹائے رکھتے جب تک کہ جسم سے رطوبت نکل نکل کر آگ کو سرد نہ کر دیتی۔لیکن یہ مرد مجاہد آئے دن کے ان مصائب کے باوجود اپنے ایمان پر مستقل رہا۔اور کسی مداہنت سے کام لے کر بھی ان تکالیف سے نجات حاصل کرنے کا خیال دل میں نہ لاتا۔-4- حضرت عمر نے اسلام لانے سے قبل اپنی بہن اور بہنوئی حضرت سعد بن زید کو اس قدر مارا کہ ان کے چہرے سے خون کے فوارے چھوٹنے لگے۔مگر ان کے ایمان میں کوئی لغزش نہ آئی اور آخران کا استقلال حضرت عمر کو اسلام میں داخل کرنے کا موجب ہوا۔www۔alislam۔org