مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 35
70 مسلم نوجوانوں کے کارنامه 69 مسلم نوجوانوں کے نامے کسی نہ کسی مسکین کو شریک کر لیتے ہیں۔ان کی بیوی نے فقراء سے کہلا بھیجا کہ ان کے رستہ میں اب نہ بیٹھا کرو۔مگر وہ مسجد سے نکلے تو ان کو گھر سے بلوا بھیجا۔آخر ان کی بیوی نے ان سے کہا کہ بلانے پر بھی نہ آیا کرو۔چنانچہ ایک مرتبہ وہ نہ آئے تو اس رات آپ نے کھانا ہی تناول نہ فرمایا۔14 - حضرت سعد بن عبادہ کی فیاضی مشہور دور و نزدیک تھی۔شام ہوتی تو ان کا ایک آدمی با آواز بلند پکارتا کہ جسے گوشت اور چربی کی خواہش ہو یہاں آئے۔آپ اسی اسی اصحاب صفہ کو کھانا کھلاتے تھے۔15- حضرت قیس بن سعد انصار کے علم بردار اور دریا دل آدمی تھے۔ایک غزوہ میں جب سامان رسد کم تھا آپ قرض اٹھا اٹھا کر ساری فوج کو کھانا کھلاتے رہے۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی اس غزوہ میں شامل تھے۔انہوں نے مشورہ کیا کہ انہیں روکنا چاہیے ورنہ باپ دادا کا سرمایہ لٹادیں گے۔لیکن جب ان کے والد کو علم ہوا کہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمران کے لڑکے کو فیاضی سے روکنا چاہتے ہیں۔تو آنحضرت ﷺ سے شکایت کی اور کہا کہ مجھے ان دونوں سے کون بچائے گا جو میرے لڑکے کو بخیل کرنا چاہتے ہیں۔16 - حضرت قیس بن عبادہ اس قدر فیاض تھے کہ آپ جہاں بھی جاتے ایک آدمی گوشت اور مالیدہ کا پیالہ بھرا ہوا ساتھ لے کر چلتا۔اور پکارتا جاتا کہ آؤ اور کھاؤ۔17۔ایک دفعہ حضرت امام حسن نے دیکھا کہ ایک شخص مسجد میں بیٹھا ہوا خدا تعالیٰ سے دعا کر رہا ہے کہ خدایا مجھے دس ہزار درہم عنایت فرما۔آپ گھر واپس تشریف لائے اور اسے اتنی رقم بھجوادی جس کے ملنے کی وہ دعا کر رہا تھا۔18- ایک مرتبہ ایک شخص جو حضرت علی کا دشمن تھا۔مدینہ میں آیا۔لیکن اس کے پاس زادراہ اور سواری نہ تھی۔لوگوں نے اسے کہا کہ حضرت امام حسن کے پاس جاؤ ان سے زیادہ فیاض کوئی نہیں۔چنانچہ وہ آپ کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے اسے دونوں چیزوں کا انتظام کر دیا۔کسی شخص نے کہا کہ آپ نے ایسے شخص کے ساتھ حسن سلوک کیا ہے جو آپ کا اور آپ کے والد دونوں کا دشمن ہے۔آپ نے فرمایا کہ کیا میں اپنی آبرونہ بچاؤں۔19 - حضرت امام حسن ایک دفعہ کھجوروں کے ایک باغ میں سے گزرے تو دیکھا کہ ایک حبشی غلام روٹی کھا رہا ہے۔لیکن اس طرح کہ ایک لقمہ خود کھاتا ہے اور دوسرا کتے کے آگے ڈال لیتا ہے۔حتی کہ اس نے آدھی روٹی کتے کو کھلا دی۔آپ نے اس سے پوچھا کہ کتے کو دھت کار کیوں نہیں دیتے۔اس نے کہا کہ مجھے شرم آتی ہے۔آپ نے اس کے آقا کا نام دریافت کیا اور اس سے فرمایا کہ جب تک میں واپس نہ آؤں یہیں رہنا۔وہ تو وہیں کام کرتا رہا اور آپ اس کے آقا کے پاس پہنچے اور باغ اور غلام دونوں چیزیں اس سے خرید کر واپس آئے۔اور آکر غلام سے فرمایا کہ میں نے تمہیں معہ اس باغ کے تمہارے آقا سے خرید لیا ہے۔اور تمہیں آزاد کر کے یہ باغ تمہارے نام ہبہ کرتا ہوں۔غلام نے یہ بات سنی تو کہا کہ آپ نے جس خدا کے لیے مجھے آزاد کیا ہے اسی کی راہ میں یہ باغ صدقہ کرتا ہوں۔سبحان اللہ ایک طرف رحم دلی اور نیک عادات کی قدر و قیمت دیکھیے۔فیاضی پر نظر ڈالیے اور پھر دوسری طرف سیر چشمی اور بے نیازی ملاحظہ فرمائیے۔کہتے ہیں کہ غلامی انسانی فطرت کو مسخ کر دیتی ہے۔اسے انسانیت کے اعلی جوہر سے محروم کر دیتی ہے۔بلند اخلاقی اور فراخ حوصلگی کو مٹا کر تنگ نظری اور تنگدلی پیدا کر دیتی ہے لیکن اسلام کے اندر کیا تاثیر تھی۔اور رسول پاک میتر کی پاک محبت کا کس قدر اثر تھا کہ مسلمانوں کے غلام بھی فیاضی اور بے نیازی میں بادشاہوں سے بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں۔دنیا کی دولت اور اس کے مال نہ ان کو اپنی طرف مائل کر سکتے تھے اور نہ جسمانی غلامی اور ظاہری بے بسی ان کی روحانی بلند پروازوں کی راہ میں حائل ہوسکتی تھی۔اسلام نے ان کے اندر وسعت قلب اور خیالات کی ایسی بلندی پیدا کر دی تھی کہ ان کو اپنی تنگدستی کا احساس تک باقی نہ رہا تھا۔20- حضرت امام حسین بے حد فیاض تھے۔خدا تعالیٰ کی راہ میں کثرت کے ساتھ اموال خرچ www۔alislam۔org