مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 34
68 مسلم نوجوانوں کے 67 مسلم نوجوانوں کے نامے کرتے۔جمعہ کی ہر شب کو کوفہ کی مسجد میں دیناروں سے بھری ہوئی تھیلیاں نمازیوں میں تقسیم کراتے تھے۔سوالی کو کبھی رد نہ کرتے تھے اور اس کا اس قدر خیال رکھتے تھے کہ کسی حاجت مند کے سوال پر اگر کچھ پاس نہ ہوتا تو اسے ایک تحریر دے دیتے کہ بعد میں آکر وصول کر لے۔5 آپکے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے کہ آپ ایک روز مسجد سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ ایک شخص پیچھے پیچھے ہولیا۔آپ نے دریافت فرمایا کہ کیا کوئی کام ہے اس نے کہا نہیں یونہی آپ کو تن تنہا آتے دیکھا تو ساتھ ہولیا۔آپ نے فرمایا کہ میرے فلاں غلام کو بلا لاؤ اور کاغذ قلم دوات بھی منگواؤ۔اس نے تعمیل کی تو آپ نے اسے ہیں ہزار کی ہنڈی تحریر کر دی۔اور کہا کہ میرے پاس اس وقت روپیہ نہیں پھر کبھی آکر یہ رقم وصول کر لینا۔آپ کی وفات ہوئی تو دس ہزار اشرفی آپ پر قرض تھا۔بیٹے نے پوچھا۔یہ قرض کیونکر ہوا تو کہا کہ کسی کی حاجت روائی کی اور کسی کو سوال سے پہلے دے دیا۔6- حضرت معاذ بن جبل نے عین عالم جوانی یعنی 32 سال کی عمر میں وفات پائی تھی مگر طبیعت کی فیاضی اور غرباء سے ہمدردی کا یہ حال تھا کہ وفات کے وقت تمام جائیداد بیع ہو چکی تھی۔7- حضرت سعد بن عبادہ کے پاس ایک مرتبہ ایک ضعیفہ آئی۔اور کہا کہ میرے گھر میں چوہے نہیں ہیں جس سے اس کا مقصد یہ تھا کہ اناج وغیرہ کچھ نہیں۔کیونکہ چوہے وہیں ہوتے ہیں جہاں اناج وغیرہ ہو۔آپ نے اس کی یہ بات سن کر کہا کہ سوال کا طریقہ نہایت عمدہ ہے اچھا جاؤ اور اب تمہارے گھر میں چوہے ہی چوہے نظر آئیں گے۔چنانچہ آپ نے اس کا گھر غلہ روغن اور دوسری خوردنی اشیاء سے بھر دیا۔حضرت زبیر بن العوام نے صرف 16 سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا لیکن اسلامی تعلیم کے رنگ میں بالکل رنگین تھے۔آپ کے پاس قریباً ایک ہزار غلام تھے۔جو روزانہ اجرت پر کام کر کے ایک معقول رقم لاتے تھے مگر آپ اس میں سے ایک حسبہ بھی اپنے یا اپنے اہل و عیال کے لیے خرچ نہ کرتے تھے بلکہ سب کچھ صدقہ کر دیتے تھے۔حضرت زبیر کی فیاضی اس حد تک بڑھی ہوئی تھی کہ باوجود اس قدر تمول کے بائیس لاکھ کے مقروض ہو گئے تھے۔10 - حضرت زبیر کا دروازہ فقراء اور مساکین کے لیے ہر وقت کھلا رہتا تھا۔قیس بن ابی حازم کا بیان ہے کہ میں نے ان سے زیادہ بغیر غرض کے محض ہمدردی کے طور پر خرچ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔11- ایک مرتبہ حضرت طلحہ نے اپنی ایک جائدا د سات لاکھ درہم میں فروخت کی۔اور یہ رقم سب کی سب راہ خدا میں وقف کر دی۔آپ کی بیوی سعدی بنت عوف کا بیان ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنے شو ہر کو مین دیکھا تو پو چھا کہ آپ ملول کیوں نظر آتے ہیں۔کیا مجھ سے کوئی خطا سرزد ہوئی۔آپ نے جواب دیا نہیں تم نہایت اچھی بیوی ہو۔بات یہ ہے کہ میرے پاس ایک بڑی رقم جمع ہوگئی ہے۔سوچ رہا ہوں کہ اسے کیا کروں۔میں نے کہا کہ اسے تقسیم کراد یجئے۔چنانچہ اسی وقت لونڈی کو بلایا اور چار لاکھ کی رقم اپنی قوم میں تقسیم کردی۔12۔حضرت جعفر نے بھی جو حضرت علی کے بھائی تھے نو جوانی میں اسلام قبول کیا تھا۔فیاضی اور غریب پروری آپ کا خاصہ تھا۔مساکین اور غرباء کے ساتھ نہایت مشفقانہ سلوک کرتے تھے۔ان کو اپنے گھر لے جاتے اور کھانا کھلاتے۔حضرت ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ میں نے جعفر کومسکینوں کے حق میں سب سے بہتر پایا ہے۔وہ اصحاب صفہ کو اپنے گھر لے جاتے تھے اور جو کچھ ہوتا سامنے لاکر رکھ دیتے تھے۔حتی کہ بعض اوقات شہد اور گھی کا خالی مشکیزہ لا کر سامنے رکھ دیتے تھے اور اسے پھاڑ کر ہم لوگ چاٹ لیتے تھے۔13 - حضرت عبداللہ بن عمر کا یہ معمول تھا کہ عام طور پر کسی مسکین کو شامل کیے بغیر کھانا نہ کھاتے تھے۔ایک بار بعض لوگوں نے ان کی بیوی سے کہا کہ تم اپنے خاوند کی اچھی طرح خدمت نہیں کرتیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں کیا کروں۔ان کے لیے کھانا تیار کرتی ہوں۔تو www۔alislam۔org