مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 36
72 مسلم نوجوانوں کے کارنامـ 71 مسلم نوجوانوں کے نامے کرتے تھے۔کوئی سائل کبھی آپ کے دروازہ سے واپس نہ ہوتا تھا۔ایک مرتبہ ایک سائل آیا۔آپ نماز میں مشغول تھے۔سائل کی آواز سن کر آپ جلدی جلدی نماز سے فارغ ہوئے۔اس پر نگاہ ڈالی تو چہرہ پر فقر وفاقہ کے آثار دکھائی دیئے۔آپ نے اپنے خادم سے پوچھا کہ گھر میں کچھ ہے تو لاؤ اس نے کہا کہ آپ نے دوسو درہم جو اہل بیت میں تقسیم کرنے کے لیے دیے تھے وہ ابھی تقسیم نہیں ہوئے۔اس کے سوا کچھ نہیں۔آپ نے فرمایا کہ لے آؤ۔اب اہل بیت سے زیادہ مستحق ایک شخص آ گیا ہے۔چنانچہ وہ تھیلی اس سائل کے حوالہ کر دی۔اور اس وقت اس سے زیادہ نہ دے سکنے پر معذرت بھی کی۔21 حضرت اسماء بنت ابوبکر کے متعلق کسی دوسری جگہ ذکر آپ کا ہے کہ جب ان کی شادی ہوئی تو ان کے شوہر حضرت زبیر بالکل غریب تھے۔اور اس لیے انہیں نہایت تنگی سے گز را وقات کرنی پڑتی تھی۔مگر اس تنگی نے ان کی طبیعت میں کوئی تنگ دلی پیدا نہیں کی تھی۔اور اسلامی تعلیم انسان کے اندر جو بلندی خیال پیدا کرتی ہے اس پر قطعا اثر انداز نہیں ہوسکی تھی۔ان کی بہن حضرت عائشہ کے ترکہ میں سے ان کے حصہ میں ایک جائداد آئی۔جسے فروخت کرنے سے ایک لاکھ درہم وصول ہوئے۔جس شخص نے مالی مشکلات کا سامنا کیا ہو اور تنگ دستی میں مبتلا رہ چکا ہو۔ہاتھ میں کوئی رقم آنے پر طبعا وہ جزرسی کی طرف مائل ہوتا اور اسے سنبھال سنبھال کر رکھتا ہے۔لیکن انسانی فطرت کے بالکل برعکس حضرت اسماء نے یہ ساری رقم اپنے غریب اور محتاج اعزہ پر خرچ کردی۔صحابہ کرام کی فیاضی اور سیر چشمی کی یہ چند مثالیں ہر ایک انصاف پسند اور حقیقت آگاہ کو اس امر کے اقرار پر مجبور کریں گی کہ دنیا کی تاریخ اور مختلف اقوام وملل کے حالات اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہیں۔فیاضی سے کام لینے والے اور رفاہ عام پر اپنی دولت خرچ کرنے والے بے شک آج بھی بعض لوگ نظر آتے ہیں۔لیکن صحابہ کرام کی فیاضی کے اندر جو بے نفسی ، خدا ترسی اور ہمدردی نظر آتی ہے وہ کہیں اور دکھائی نہیں دے گی۔افسوس ہے کہ میں اس موضوع پر تی تفصیلی بحث اس وقت ہمارے پیش نظر نہیں۔اس لیے صرف ایک اصولی فرق کی طرف اشارہ پر اکتفا کرنے پر مجبور ہیں۔لیکن اس پر جتنا زیادہ غور کیا جائے۔ہمارے خیال کی تصدیق ہوتی جائے اس کے علاوہ اس ضمن میں ایک اور قابل غور پہلو یہ ہے کہ صحابہ کرام کی فیاضیوں کے دریا کی روانی صرف ان کے بھائی بندوں، رشتہ داروں، دوستوں اور بنی نوع انسان تک ہی محدود نہ تھی۔بلکہ مندرجہ بالا امثلہ آپ پر یہ بھی واضح کریں گی کہ اس میں دوست دشمن بلکہ جنس و غیر جنس تک کی کوئی تمیز نہ تھی۔فخر موجودات اور سرور کائنات میلہ خود جس طرح رحمت للعالمین تھے ، اسی طرح آپ کے فیض صحبت سے تربیت یافتہ مرد و عورت بھی اپنی رحمت اور فیاضی کے دائرہ کو ہر ممکن حد تک وسعت دینے کی کوشش کرتے تھے۔ا۔(اسد الغابہ ج 3 ص 185)۔(مسند احمد ج 6 ص 403) اللهم صل على محمد و بارک وسلم حوالہ جات ۲۔(استیعاب ج 4 ص 251) ۴۔(استیعاب ج 2 ص 184 ،185) ۱۰۔( فتح الباری ج 7 ص 66) ؟ ۱۲۔( بخاری کتاب المناقب) ۵- (استیعاب ج2 ص185،184)۔(سیر انصارج2 ص164) ے۔(استیعاب ج2 ص185،184) ؟۔(اصابہ ج 2 ص 460) ۹۔( بخاری کتاب الجہاد ) اا۔( ابن سعد ج 1 ص 157) ۱۳ ( ابن سعد ج 4 ص 166 ) ۱۵۔(اسد الغابہ ج 4 ص 119) ۷۔(ابن عسا کرج4 ص214) ۱۸۔( ابن عسا کر ج4 ص214) ۱۹۔(ابن عساکرج4 ص214) ۲۰۔(ابن عسا کر ج 4 ص 323 ) ۲۱۔( بخاری کتاب الصبة ) ۱۴۔(اصابہ ج 3 ص 56) ۱۶۔(استیعاب ج 2 ص 184 185) www۔alislam۔org