مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 26
52 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 51 مسلم نوجوانوں کے نامے کے ماتحت خلفاء کے ساتھ اختلافات کا دروازہ کھول دیا جائے تو خلافت کا منشاء کبھی بھی پورانہیں ہوسکتا اور تسکین دین کا کام پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکتا۔یہ امر نہایت ہی قابل افسوس ہے کہ بعض علماء کہلانے والے محض ذاتی عداوت ورقابت کی بناء پر آج حریت ضمیر اور مساوات اسلامی کا تقاضا یہی سمجھتے ہیں کہ خلیفہ وقت کے ساتھ کسی بارے میں کوئی اختلاف پیدا ہونے کی صورت میں اعلیٰ درجہ کا ایمان یہی ہے کہ فوراً اس پر اعتراض کر دیا جائے۔اور اس کے لیے وہ سطحی خیالات اور معمولی علمیت رکھنے والے ایک دولوگوں کی مثالیں پیش کرتے ہیں۔جنہوں نے خلیفہ وقت کے متعلق کوئی اعتراض دل میں پیدا ہونے کی صورت میں بر ملا اور بھری مجلس میں اس کا اعلان ضروری سمجھا۔اور یہ نہیں سوچتے کہ وہ لوگ دینی لحاظ سے کسی ممتاز اور نمایاں حیثیت کے مالک ہرگز نہ تھے۔اس کے مقابلہ میں ہم نے جو مثالیں پیش کیں ہیں وہ جلیل القدر صحابہ کی ہیں۔جو نہایت ارفع دینی مقام پر کھڑے تھے اور اس لیے انہی کے اسوہ کی تقلید ہمارے لیے کسی نفع کا موجب ہو سکتی ہے۔اسکے علاوہ صحابہ آنحضرت ﷺ نیز خلفاء وامراء کے احکام کی تعمیل جس مستعدی اور سرگرمی کے ساتھ کرتے تھے اگر چہ وہ بھی اپنی شان میں بے نظیر ہے۔لیکن اس جگہ اس کا ذکر ہم نے نہیں کیا۔دوسرے عنوانات کی ذیل میں اس کی مثالیں آپ کو ضرور مل سکیں گے۔آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد جب اسلامی مجاہدین مرتدین کی سرکوبی میں مصروف تھے تو حضرت خالد بن ولید سجاح بنت الحرث مدعیہ سے مقابلہ کر رہے تھے کہ میدان جنگ میں مالک بن نویرہ سے سامنا ہوا۔اور حضرت خالد بن ولید کے حکم سے اسے قتل کر دیا گیا۔یہ میدان جنگ کا ایک معمولی واقعہ ہے لیکن بعض مسلمانوں کی رائے تھی کہ مالک مسلمان تھا۔اور اس کی بستی سے اذان کی آواز آئی تھی۔اس لیے اس کا قتل نا جائز ہے۔ایک صحابی حضرت ابوقتادہ نام حضرت خالد بن ولید کی فوج میں شامل تھے اور وہ بھی اسی رائے کے موید تھے کہ مالک مسلمان تھا اور اس کا قتل نا جائز ہے چنانچہ وہ اس قتل پر بہت برہم ہوئے اور اس پر ناراضگی کے طور پر بلا اجازت لشکر سے علیحدہ ہو کر مدینہ چلے آئے۔اور یہاں آکر شکایت کی کہ خالد مسلمانوں کو قتل کرتے ہیں۔مدینہ میں بعض اکابر صحابہ حتی کہ حضرت عمر بھی ابو قتادہ کے ہم خیال تھے۔اور چاہتے تھے کہ حضرت خالد بن ولید سے قصاص لیا جانا چاہیے۔حضرت ابوبکر نے تمام حالات سنے اور فر ما یا قطع نظر اس سے کہ خالد مجرم ہے یا نہیں۔ابو قتادہ کے جرم میں کوئی شبہ نہیں کہ وہ امیر فوج کے حکم اور اجازت کے بغیر واپس آگئے ہیں۔اور حکم دیا کہ وہ فوراً واپس جائیں اور حضرت خالد کے لشکر میں شامل ہوکر ان کے ہر ایک حکم کو بلا چون و چرا بجالائیں۔چنانچہ انہیں واپس جانا پڑا۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت امیر کس قدر ضروری چیز ہے اور امیر کے ساتھ اختلاف پیدا ہو جانے کی صورت میں بھی کسی کو اس کی اطاعت سے انحراف کی اجازت نہیں۔افسوس کہ آج مسلمانوں میں اول تو کوئی امیر ہی نہیں اور ان کی پستی کی سب سے اہم ترین وجہ یہی ہے۔لیکن اگر کسی کو امیر بنا بھی لیں تو اسکی اطاعت ان کے لیے محال ہے۔احمد یوں کو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ایک نظام میں منسلک کر کے ایک واجب الاطاعت امام کے ماتحت کیا ہے۔اور یہ ایک ایسی نعمت ہے جس پر وہ اللہ تعالی کا جتنا بھی شکر کریں کم ہے۔لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ اس نعمت سے فائدہ اسی صورت میں اٹھایا جاسکتا ہے کہ بلا چون و چرا اطاعت امیر کی جائے۔ا۔(ابوداؤد کتاب الطہارت) ۳۔(ابوداؤد کتاب المناسک) ۵۔(ابوداؤ د کتاب الحدود ) حوالہ جات ۲۔(نسائی کتاب الحج) ۴- (مسلم کتاب الصلوة) www۔alislam۔org