مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 27 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 27

54 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 53 مسلم نوجوانوں کے کارنامے سوال سے نفرت بے نیازی اور سیر چشمی صحابہ کرام کے دلوں میں آنحضرت ﷺ نے خدا تعالیٰ پر جو ایمان پیدا کر دیا تھا وہ انہیں تنگ سے تنگ حالت میں بھی انسان کے سامنے جھکنے نہیں دیتا تھا اس لیے وہ سوال کو سخت معیوب سمجھتے تھے۔اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔1 حضرت مالک نے جنگ احد میں شہادت پائی تو ان کے فرزند حضرت ابوسعید خدری کی عمر اس وقت صرف تیرہ سال تھی۔باپ نے کوئی جائداد نہ چھوڑی تھی کہ جس سے بسر اوقات ہوسکتی۔فاقہ پر فاقہ آنے لگاحتی کہ کئی بار پیٹ پر پتھر باندھ کر گزارا کرنا پڑا۔ایک روزان کی والدہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ۔آج انہوں نے فلاں شخص کو دیا ہے تم بھی مانگو۔ماں کے حکم کے ماتحت وہ حضور کی خدمت میں پہنچے۔اس وقت حضور خطبہ ارشاد فرما رہے تھے جس میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جو شخص تنگی کی حالت میں صبر کرے اللہ تعالیٰ اسے غنی کرے گا۔یہ سن کر حضرت ابوسعید نے دل میں کہا کہ جب میرے پاس ایک اونٹنی موجود ہے تو مجھے مانگنے کی کیا ضرورت ہے۔چنانچہ واپس آگئے۔آخر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی بات ان کے حق میں پوری کی اور اس قدر رزق دیا کہ تمام انصار سے دولت و ثروت میں بڑھ گئے۔2 حضرت ثوبان ایک غلام تھے جنہیں آنحضرت ﷺ نے خرید کر آزاد کر دیا تھا۔اور نصیحت فرمائی تھی کہ کبھی کسی سے سوال نہ کرنا۔چنانچہ انہوں نے اس ارشاد پر اس قدر شدت سے عمل کیا کہ اگر کبھی سواری کی حالت میں کوڑا زمین پر گر جاتا تو کسی سے یہ بھی نہ کہتے کہ پکڑا دو بلکہ خود اتر کر پکڑتے تھے۔ایک مرتبہ چند صحابہ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں بیعت کے لیے حاضر ہوئے تو دیگر شرائط بیعت کے علاوہ آپ نے ایک شرط یہ پیش کی کہ لاتسألو الناس شيئا۔یعنی لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرنا۔اور ان لوگوں نے نہایت سختی کے ساتھ اس ارشاد پر عمل کیا۔- ایک بار حکیم بن حزام نے آنحضرت ﷺ سے کچھ سوال کیا جسے آپ نے پورا کر دیا۔اس کے بعد انہوں نے پھر مانگا اور آپ نے پھر دیا لیکن ساتھ نصیحت فرمائی کہ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہر حال بہتر ہے۔حضرت حکیم نے اس نصیحت کو سن کر عہد کیا کہ آئندہ کبھی کسی سے کچھ نہ مانگوں گا۔اور اس عہد پر اس شدت سے عمل کیا کہ نہ صرف یہ کہ اس کے بعد کسی سے کچھ مانگا نہیں بلکہ اگر خود بخود پیش کیا جاتا تو اسے قبول کرنا باعث عار سمجھ کر رد کر دیتے تھے۔چنانچہ حضرت ابو بکر اپنے عہد خلافت میں ان کو عطیہ دینے کے لیے طلب فرماتے تو وہ انکار کر دیتے۔حضرت عمرؓ نے بھی اپنے زمانہ میں ان کو عطیہ دینا چاہا مگر انہوں نے قبول نہ کیا۔آخر حضرت عمرؓ نے کہا کہ مسلمانو! تم گواہ رہو کہ میں حکیم کو ان کا حق دیتا ہوں مگر وہ خود نہیں لیتے۔۔حضرت مالک بن سنان کو سوال سے اس قدر نفرت تھی کہ ایک مرتبہ تین روز تک بھو کے رہے لیکن کسی سے کچھ مانگا نہیں۔6- ایک مرتبہ عبد العزیز بن مروان نے حضرت عبداللہ بن عمر کو لکھا کہ اپنی ضروریات مجھے پیش کریں۔میں پوری کروں گا۔انہوں نے جواب میں لکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔خیرات اس شخص سے شروع کرو جس کے تم کفیل ہو میں تم سے کچھ نہیں مانگتا۔ایک بار حضرت وائل بن حجر حضرت امیر معاویہ کے پاس آئے تو انہوں نے ان کو عطیہ دینا اور وظیفہ مقرر کرنا چاہا لیکن انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں مجھ سے زیادہ مستحق لوگوں کو دو۔۔حضرت عثمان نے ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن ارقم کو میں ہزار درہم دینا چاہے مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔www۔alislam۔org