مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 43 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 43

86 مسلم نوجوانوں کے کارنامے 85 مسلم نوجوانوں کے نامے ان پر پردہ ڈالتے بلکہ ان کی ہاں میں ہاں ملانا دوستی اور رشتہ داری کا تقاضا سمجھتے ہیں۔اور اگر کبھی ان پر گرفت ہو تو پوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ عقوبت سے محفوظ رہ سکیں۔حضرت سعد بن ابی وقاص نے جوانی کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا اور اس زمانہ میں چونکہ مسلمانوں کے لیے مکہ میں امن نہ تھا۔اس لیے دوسرے مسلمانوں کی طرح یہ بھی چھپ چھپ کر سنسان گھاٹیوں میں نماز پڑھا کرتے تھے۔ایک دفعہ بعض کفار نے ان کو دیکھ لیا۔تو اسلام پر تمسخر کرنے لگے۔حضرت سعد باوجود یکہ مسلمانوں کی بے بسی اور کفار کی طاقت اور ان کی ستم رانیوں سے بخوبی واقف تھے۔اس استہزاء کو برداشت نہ کر سکے اور اونٹ کی ہڑی اٹھا کر اس زور سے ماری کہ کا فرکا سر پھٹ گیا۔کہا جاتا ہے کہ اسلام کی راہ میں یہ پہلی خونریزی تھی۔حضرت عثمان بن مظعون بہت ابتدائی مسلمانوں میں سے تھے۔اور یہ وہ زمانہ تھا جب قریش مکہ ان معدودے چند اور کمزور حاملان توحید کو طرح طرح کے مظالم کا تختہ مشق بنا رہے تھے۔کیونکہ ان کا خیال تھا کہ اس طرح اسلام کو مٹانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔آخران مظالم سے تنگ آکر یہ بھی بعض دوسرے صحابہ کے ساتھ حبشہ چلے گئے۔لیکن ایک غلط افواہ کی بناء پر کہ قریش نے اسلام قبول کر لیا ہے واپس آئے۔مکہ کے قریب پہنچ کر اس غلطی کا علم ہوا لیکن اب نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والا معاملہ تھا۔اور یہ امر مجبوری ایک مشرک ولید بن مغیرہ کی پیشکش پر اس کی پناہ حاصل کر کے مکہ میں واپس آگئے۔ولید کے اثر کی وجہ سے یہ تو کفار کے مظالم سے محفوظ تھے لیکن دوسرے صحابہ کو برا براذیتیں پہنچائی جارہی تھیں۔جسے دیکھ کر آپ کی غیرت ایمانی جوش میں آئی اور دل میں کہا کہ تف ہے مجھ پر میرے بھائی تو مصائب اٹھارہے ہیں اور میں ایک مشرک کی پناہ میں آرام سے بیٹھا ہوں۔ان خیالات نے بے قرار کر دیا اور اسی وقت ولید بن مغیرہ کے پاس پہنچے اور کہا کہ میں تمہاری پناہ سے آزاد ہوتا ہوں۔اب تم پر میری کوئی ذمہ داری نہیں میرے لیے رسول خدام کا اور آپ کے صحابہ کا نمونہ کافی ہے۔اور اب میں خدا و رسول کی حمایت میں رہنا چاہتا ہوں۔تم ابھی میرے ساتھ خانہ کعبہ میں چلو اور جس طرح میری حمایت کا اعلان کیا تھا اسی طرح دستبرداری کا اعلان کر دوچنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔حضرت عثمان اس اعلان کے بعد قریش کی ایک مجلس میں پہنچے جہاں شعر گوئی ہو رہی تھی۔اور اس زمانہ کا ایک مشہور شاعر لبید قصیدہ پڑھ رہا تھا۔جس کے ایک مصرعہ کا یہ مطلب تھا کہ تمام نعمتیں زائل ہونے والی ہیں۔یہ سن کر آپ بے اختیار بول اٹھے کہ نعماء جنت زائل نہ ہوں گی۔لبید نے یہ مصرعہ پھر پڑھا۔اور آپ نے پھر اس کی تردید کی۔اس پر اس نے قریش کو جوش دلایا کہ تمہاری مجالس میں اس قدر بد تمیزی عجیب بات ہے۔اور ایک بدکردار نے بڑھ کر آپ کے منہ پر ایسا طمانچہ مارا کہ آنکھ زرد پڑگئی۔اس پر لوگوں نے کہا کہ جب تک تم ولید کی پناہ میں تھے کسی کو یہ جرات تو نہ ہو سکتی تھی۔ولید نے کہا کہ اب بھی چاہوتو میں پناہ دے سکتا ہوں مگر آپ کی غیرت نے گوارا نہ کیا۔-10 - صحابہ کرام دین کے معاملے میں اس قدر غیور واقع ہوئے تھے کہ انتہائی خطرات کے وقت بھی غیرت ایمانی کا وصف ان کی زندگیوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔پہلے یہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ حضرت ابوفلیہ کو ، جو ایک غلام تھے ان کا آقا صفوان بن امیہ طرح طرح کی تکالیف پہنچاتا تھا۔ان کے پاؤں میں رسی باندھ کر گلیوں میں گرم زمین پر گھسیٹتا جاتا تھا۔ایک دن اسی حالت میں ان کو گھسیٹ کر لے جارہا تھا کہ راہ میں ایک گبریلا نظر آیا۔صفوان نے ان کی دل آزاری کے لیے کہا کہ تیرا خدا یہی تو نہیں۔ظاہر ہے اس قدر بے چارگی اور بے بسی کی حالت میں ایک با اختیار آقا کے سامنے اس کے غلام کا جواب دینا اور اس کی تردید کرنا جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔آپ اگر چاہتے تو اس تمسخر پر خاموش رہ سکتے تھے۔اور دل میں ہی برا منانے پر اکتفا کر سکتے تھے لیکن آپ کی غیرت ایمانی نے اس بات کو پسند نہیں کیا۔یہ کلمہ سنتے ہوئے آپ کو اپنی تمام تکالیف بھول گئیں۔اپنی بے چارگی و بے بسی کا www۔alislam۔org