مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے

by Other Authors

Page 32 of 86

مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 32

مسلم نوجوانوں کے نامے 63 حضرت مغیرہ بن شعبہ کو لکھا کہ آپ نے رسول کریم ﷺ کی زبان مبارک سے جو کچھ سنا ہے اس سے مجھے بھی مستفید کریں۔انہوں نے جواب میں لکھا کہ آنحضرت ﷺ نے فضول گوئی مال کے ضیاع اور سوال سے منع فرمایا ہے۔30 دینی علوم کے علاوہ دنیوی علوم کی طرف بھی صحابہ کرام کو خاص توجہ تھی۔چنانچہ امیر معاویہ نے اپنے زمانہ کے جید عالم حضرت عبید بن شربہ سے تاریخ گزشتہ کے واقعات سلاطین عجم کے حالات، انسانی زبان کی ابتداء اور اس کی تاریخ اور مختلف ممالک کے واقعات اور مشہور مقامات کے حالات سنے۔اور پھر ان کے قلم بند کیے جانے کا مکمل انتظام کیا تھا۔31 حضرت عبداللہ بن زبیر کی عمر آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں گو صرف سات آٹھ سال تھی تاہم جب بڑے ہوئے تو دینی علوم میں نہایت بلند پایہ رکھنے کے علاوہ دینوی علوم کے بھی ماہر تھے۔ان کے پاس مختلف ممالک کے غلام تھے۔اور سب کے ساتھ ان کی مادری زبان میں گفتگو کیا کرتے تھے۔اس زمانہ میں حصول علم کی راہ میں جو مشکلات تھیں ان پر نظر رکھتے ہوئے اگر اس بات پر غور کیا جائے تو معلوم ہوسکتا ہے کہ صحابہ کرام تحصیل علم کے لیے کس قدر محنت کرتے تھے۔32 آنحضرت ﷺ کی تعلیم اور صحبت قدسی نے صحابہ کرام کے اندر شوق علم اس قدر بھر دیا تھا کہ اب ایسے وحشی ملک کے نہ صرف مردوں نے بلکہ عورتوں نے اس میں بہت محنت کی۔اور کوشش کر کے نہایت بلند مقام علمی میدان میں حاصل کیے۔حضرت ربیعہ بنت معوذ بن عفراء باوجود عورت ہونے کے ایسی عالمہ تھیں کہ بڑے بڑے جید عالم مثلاً حضرت ابن عباس اور امام زین العابدین اکثر ان سے مسائل اسلامی دریافت کرتے تھے۔33۔حضرت اسماء بنت عمیس علم تعبیر الرویا میں اس قدر دسترس رکھتی تھیں کہ حضرت عمر جیسا فاضل اور جید عالم بھی بعض مرتبہ اپنے خوابوں کی تعبیر یں ان سے دریافت کیا کرتا تھا۔اپنے بزرگوں کی حصول علم کے لیے جد و جہد اور علمی میدان میں ممتاز مقام حاصل کرنے کو مسلم نوجوانوں کے کارنامے 64 ایک طرف رکھیے۔انہوں نے نہ صرف دینی علوم بلکہ اشد ترین رکاوٹوں کے باوجود دنیوی علوم سیکھنے میں جو محنت اور مشقت اٹھائی اور جو ترقیات کیں ان پر نظر ڈالیے اور اس کے ساتھ دورِ حاضرہ کے مسلمان کہلانے والوں کی حالت کو ملاحظہ فرمائیے کہ یہ تعلیم کے میدان میں سب سے پسماندہ اور جاہل سمجھے جاتے ہیں تو طبیعت کس قدر رنجیدہ ہوتی ہے۔یه تو دور اول کے مسلمانوں کی علمی جولانیاں تھیں۔بعد میں آنے والوں نے اس میدان میں جو خدمات سرانجام دی ہیں وہ بھی نہایت ہی شاندار اور زندہ جاوید ہیں۔آج دنیا میں جو علوم مروج ہیں یہ امر مسلمہ ہے کہ ان تمام کی بنیاد میں مسلمانوں کے ہاتھوں رکھی گئی تھیں اور آج مختلف علوم و فنون میں جو نئی نئی تحقیقا تیں ہو رہی ہیں یہ سب کی سب انہی بزرگوں کی دماغی کا وشوں کی روشنی میں ظہور پذیر ہورہی ہیں۔مگر افسوس کہ یورپ نے ان جواہر پاروں سے فائدہ اٹھایا اور اس وجہ سے علمی ترقیات کرتے کرتے زندگی کے ہر شعبہ میں اس قدر ترقی کر گیا کہ ساری دنیا پر چھا گیا۔لیکن مسلمانوں نے اپنی اس میراث کی کوئی قدر نہ کی اور اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے ہاتھ سے حکومت تو گئی تھی لیکن وہ آہستہ آہستہ زندگی کے تمام شعبوں میں گرتے گئے اور آج یہ حالت ہے کہ ان کا شمار دنیا کی پسماندہ اقوام میں ہے۔اللہ تعالیٰ رحم کرے۔ا۔(اصابہ ج 7 ص 353) ۳۔(تہذیب الناس ص 260) ۵۔(اسد الغابہ ج 1 ص 100) ے۔(اسد الغابہ ج 2 ص 137) ۹۔(سیر انصارج 2 ص 6) ا۔(سیر انصار ج 2 ص 120) حوالہ جات ۲۔( بخاری کتاب الانبیاء ) ۴۔(استیعاب ج 4 ص 235 ص) ۲ - ( فتح الباری ج 1 ص 159) - (مسند احمد ج 5 ص 189) ۱۰۔(سیر انصارج 2 ص 117) ۱۲۔( بخاری کتاب فضائل القرآن) ۱۳۔(سیر انصارج 2 ص 184) ( مسند احمد ج 5 ص 235) ۱۴۔(اسد الغابہ ج 4 ص 272) (سیر انصارج 2 ص 204) ۱۵۔(مسند احمد ج 4 ص 269) ۱۶۔(استیعاب ج 2 ص 213 تا 215) www۔alislam۔org