مسلم نوجوانوں کے سنہری کارنامے — Page 31
62 مسلم نوجوانوں کے 61 مسلم نوجوانوں کے رنامے اگر کوئی عالم خاموش ہوتو وہ جسم بے روح ہے۔اگر علم کو لٹایا نہ جائے تو وہ مدفون خزانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔عالم کی مثال اس شخص کی سی ہے جو تاریک راستے میں چراغ دکھاتا ہے۔22۔حضرت عبداللہ بن عباس نہ صرف آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں بلکہ حضرت عمر کے زمانہ میں کم سن تھے مگر علمی پایہ اتنا بلند تھا کہ حضرت عمرا اکثر پیچیدہ اور مشکل مسائل ان سے حل کراتے تھے۔وہ اپنی کم عمری کی وجہ سے مجلس میں بات کرنے سے جھجکتے تو حضرت عمران کی ہمت بندھاتے اور فرماتے کہ علم عمر کی کمی یا زیادتی پر منحصر نہیں۔آپ کو شیوخ بدر کے ساتھ بٹھاتے تھے۔( بخاری صفحه 615) 23۔حضرت عبد اللہ بن عباس کی عمر آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت صرف چودہ پندرہ سال تھی مگر پھر بھی علمی جستجو اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ آپ کی مرویات کی تعداد 6620 ہے۔24۔بعض لوگ محض اس وجہ سے علم بلکہ بعض دینی خدمات سے محروم رہ جاتے ہیں کہ وہ کسی کے پاس جا کر کسب علم کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔مگر صحابہ کرام میں یہ مرض نہ تھا۔حضرت عبداللہ بن عباس آنحضرت ﷺ کے چازاد بھائی ہونے کی وجہ سے خاص خاندانی وجاہت کے مالک تھے۔اس کے علاوہ ان کا علمی پایہ بھی بہت بلند تھا جسکا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔مگر یہ علو مرتبت تحصیل وطلب علم کے راستہ میں روک نہ تھا۔آپ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب کے پاس جاتے اور ان سے حضور کی باتیں سنتے تھے۔جب آپ کو معلوم ہوتا کہ کہ فلاں شخص نے آنحضرت ﷺ سے کوئی حدیث سنی ہے تو فوراً اس کے مکان پر پہنچتے۔اور اس سے حدیث سنتے تھے اور اس طرح آپ نے عرب کے کونہ کونہ میں پھر کر ان جواہر پاروں کو جمع کیا۔جو اطراف ملک میں مختلف لوگوں کے پاس منتشر صورت میں موجود تھے۔( مستدرک حاکم جلد 3 فضائل ابن جساس ) اس محنت کا یہ صلى الله نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام میں جب آنحضرت ﷺ کے کسی قول یا فعل پر اختلاف ہوتا تو حضرت عباس کی طرف رجوع کرتے تھے۔جس طرح آپ نے کوشش اور سعی کے ساتھ علم حاصل کیا تھا اسی طرح کوشش اور محنت کے ساتھ اس کی اشاعت بھی فرماتے۔چنانچہ ان کا حلقہ درس بہت وسیع تھا۔اور سینکڑوں طلباء روزانہ ان سے اکتساب علم کرتے تھے۔(مستدرک حاکم جلد 3) 25۔حضرت عمر نے قبول اسلام کے بعد جہاں دینی علوم میں کمال حاصل کیا وہاں دین کی راہ میں کام آنے والے دنیوی علوم بھی سیکھے۔چنانچہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ پہنچنے کے بعد آپ نے عبرانی بھی سیکھ لی تھی۔چنانچہ آپ ایک دفعہ توریت کا ایک نسخہ لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس گئے اور اسے پڑھنا شروع کیا۔آپ پڑھتے جاتے تھے اور آنحضرت ﷺ کا چہرہ فرط انبساط سے متغیر ہوتا جاتا تھا۔26- علم الفرائض یعنی تقسیم ترکہ کے علم کو مرتب کرنے والے حضرت عثمان اور حضرت زید بن ثابت ہیں۔قرآن شریف میں جو اصول بیان کیے گئے ہیں انہیں بنیاد قرار دے کر ان دونوں بزرگوں نے علم الفرائض کی ایسی مستحکم عمارت کھڑی کر دی کہ آج تک مسلمان اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور قیامت تک اٹھاتے رہیں گے۔27۔حضرت علیؓ کے متعلق یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ آپ نے کمسنی میں اسلام قبول کیا تھا تاہم تحصیل علم کا شوق اس قدر تھا کہ آپ کے علمی کمال کو دیکھ کر آنحضرت ﷺ نے فرمایا انا مدينة العلم و علی بابھا یعنی میں علم کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔28۔آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت حضرت حسن کی عمر صرف آٹھ سال تھی لیکن باوجوداس کے آپ نے علمی لحاظ سے اس قدر ترقی کر لی تھی کہ بعد کے زمانہ میں مدینہ میں جو جماعت علم افتاء کی ترتیب کے لیے مقرر ہوئی آپ اس کے ایک رکن تھے۔29۔دینی علم میں اضافہ کا شوق ہر چھوٹے بڑے صحابی کو رہتا تھا۔ایک دفعہ امیر معاویہ نے www۔alislam۔org