پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 41 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 41

پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزمان کے عاشقانہ اشعار اس موقع پر جماعت احمد یہ غانا کے حق میں جو پُر جوش نعرے لگائے گئے انہوں نے ایسا سماں باندھ دیا جس کی یا درمانہ بھی مونہیں کر سکے گا۔ے او چو بر کس مہربانی می کند از زمینی آسمانی ی کند ( ترجمہ: اللہ جلشانہ جب کسی پر مہربانی کرتا ہے تو اسے زمینی سے آسمانی بنا دیتا ہے) وہ دن نزدیک ہے اپنی دعائیں رنگ لائیں گی (ورزشین) ہمارا ذاکر قرآن ہی صاحبقراں ہو گا شمار خلق پر ہم ابر رحمت بن کے چھائیں گے جدھر برسیں گے کھل کر بوستاں ہی بوستاں ہو گا طفیل احمد مختار ایمان ہے اپنا 59 ہماری ہی زمیں ہو گی ہمارا آسماں ہو گا نظر آئیں گے ہم نغمہ سرا گلزار احمد میں نہ کچھ اندیشہ میرا نے فکر زیاں ہو گا فساد وفتنہ۔شور وشر سے جب گھبرائے گی دُنیا تو یہ مرکز ہمارا قادیاں۔دارالاماں ہو گا خلافت جوبلی اے بھائیو۔بہنو! مبارک ہو یہ دور خسروی تا دیر ہم پر حکمراں ہو گا خدا کی بادشاہت میں جو امن و چین پائیں گے زبانوں پر نہ کچھ بھی شکوہ جور کہاں ہو گا به فیض احمدیت نیکی ہی نیکی جو پھیلے گی آدم زاد خاکی پر فرشتوں کا گماں ہو گا