پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 21
پُر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار ایک ایک محمود احمد کا شیدا ہوں فدا ہو رہا ہے 21 پھرے ہیں نہ عہد وفا سے پھریں گے کہیں تذکرہ جا بجا سوا اس کے ہے اور کچھ جس کے دل میں وہ پابند حرص ہوا و ہو رہا ہے ہو رہا رہا ہے کوئی جاکے کہہ دے اُس خود نما سے جو اپنی ادا فدا ہو رہا مند کی پھوکوں سے بجھتا ہے سورج پر ارے میرے دانا کیا ہو رہا ہے کدھر آج تیر ستم چل رہے کدھر دار تیغ جفا ہو ہوتا تھا بالقصد اسکو بھلایا جو بھولے ہونا نہ تھا ہو رہا ہے جو جائز نہ تھا جو تھا ناروا 05 ہو گیا آج جائز روا ہو رہا ہے ہے این مهدی محمود احمد جو وہ اق پر ستم بر ملا ہو نتیجہ یہ غیروں وہ ہے کس کو سنائیں جو حال دل مبتلا ملنے کا نکلا وہ کیونکر دکھائیں ہو رہا ہے کہ بھائی ت بھائی جدا ہو رہا ہے