پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 45
پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار دیا گیا ہے لہذا اے میرے دوستوں کی جماعت تم صرف اسی حربے سے غالب آ سکتے ہو ( ترجمه تذکرۃ الشہادتین صفحه ۱۸۷) 45 یہ پیغام صور اسرافیل تھا جسے پڑھتے ہی ہر زائر میں زندگی کی ایک نئی برقی رو دوڑ گئی۔میں ابھی اجے دل کی آنکھوں سے پڑھ ہی رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ میرے سامنے عرش معلی سے عشاق خاتم النبین کے بہت سے شاہی تخت اترے ہیں جن میں سب سے اونچا تخت کا سر صلیب مسیح الزمان مہدی دوران کا تھا۔ایوان خلافت کا یہ خادمِ در تصویر حیرت بنے اور دم بخود ہو کر اس روح پرور نظارے سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک میری آنکھ کھل گئی اور ساتھ ہی خیال آیا کہ فوری طور پر مجھے تذکرہ کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔حسن اتفاق سے تذکرہ کاربوہ سے چھپا ہوا تازہ ترین ایڈیشن ساتھ ہی میز پر رکھا تھا میں نے اسکی ورق گردانی شروع کی تو ابتدا ہی میں میرے سامنے ۲۷ اگست ۱۸۹۹ء کا یہ پُر شوکت الہام آگیا۔” خدا نے ارادہ کیا ہے کہ تیرا نام بڑھاوے اور تیرے نام کی خوب چمک آفاق میں دکھاوے۔۔۔۔آسمان سے کئی تخت اترے مگر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“ ( الحلم و تمبر ۱۸۹ صفحه ۵ کالم ۳ مکتوب حضرت مولاناعبدالکریم صاحب سیالکوٹی) نظام خلافت اور مقام محمود کی تجلیات عالم تخیل کے مشاعرہ مئی ۲۰۰۸ء کی روداد اختتام کو پہنچی۔اب حرف آخر کے طور پر مجھے یہ کہنا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اس حیرت انگیز وجی نے مجھے اسلام کے زندہ مذہب اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ نبی ہونے پر ایک زندہ ایمان بخشا کیونکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح محمدی کو چار بار نبی اللہ کے خطاب سے نوازا