پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 44 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 44

پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار 44 جلوہ گر ہے۔جہاں ہر طرف طیور ابراہیمی " الصلوۃ معراج المومنین‘ کے چھوٹے چھوٹے رنگین قطعات اپنی چونچوں میں لئے ہر عاشق رسول کو تحفہ پیش کر رہے ہیں۔سامنے سنگ مرمر کا ایک شاہ نشین ہے جس کے اطراف میں اونچی سطح پر تین قد آدم بورڈ آویزاں ہیں۔ایک بورڈ پر یہ حدیث جلی حروف میں درج ہے کہ ” الفردوس ربوة الجنة » ( کنز العمال جلد ۴ صفحه ۴۵۶) یعنی فردوس جنت کا ربوہ ہے ( یہ کتاب ۱۹۸۴ء کے بدنام زمانہ آرڈنینس کے ایک سال بعد ۱۹۸۵ء میں بیروت سے شائع ہوئی ) دوسرا بڑا بورڈ اس فرمان رسول سے مزین تھا کہ جنت میں موتیوں کا ایک خیمہ ہو گا جو ساٹھ میلوں میں پھیلا ہوا ہو گا جسے صرف آخرین ہی دیکھیں گے۔(ایضاً صفحہ ۴۵۸) خیمہ کے باہر غانا، بین اور نائیجیریا اور ارض بلال کے کئی احمدی نظر آئے جن کے چہرے بظاہر سیاہ مگر باطن چاند سورج کی طرح چمک رہے تھے۔میں حیرت زدہ رہ گیا کہ احمدیوں میں سے صرف افریقن ہی کو یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ یکا یک بجلی کی طرح دماغ میں رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مبارک حدیث آگئی کہ من ادخل بيته حبشيا او حبشية ادخل الله بيته بركة “ ( كنوز الحقائق للعلامہ حافظ حضرت امام مناوی ) یعنی جس نے اپنے گھر میں کسی افریقن مرد یا عورت کو ( رضا الہی کی خاطر ) جگہ دی۔خدا اس کے مکان کو بھی متبرک بنا دے گا۔تیسرے بورڈ پر یہ حدیث نبوی نقش تھی۔" افتتحت المدينة بالقرآن“ (جامع الصغير للسيوطي ) یعنی مدینہ قرآن سے فتح ہوا۔شاہ نشین سے کچھ فاصلہ پر ایک نہایت پُرشکوہ اور سر بفلک مینار دعوت نظارہ دے رہا تھا۔مینار کے دروازہ کی پیشانی پر مسیح محمدی کا یہ مقدس پیغام زریں الفاظ میں کندہ تھا۔”خوب یا درکھو دعا وہ ہتھیار ہے جو اس زمانہ کی فتح کے لئے مجھے آسمان سے