پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 24 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 24

پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار 24 راحت طلب نازک بدن گلہائے گلزارِ چمن ہیں مائل رنج محسن۔دل میں ہے خارِ قادیان خوبان عالم یک طرف۔یہ ابنِ مریم یک طرف محمود اعظم یک طرف عالی تبار قادیان ہر رنگ رنگ مصطفی، ہر شان شان اصطفی ہے غل صتي على دیکھو نگارِ قادیان ہر سو تحفہ قادیان صفحه ۵ ناشر مولوی محمد عنایت الله بد و ملهوی، نصیر بک ایجنسی اشاعت دسمبر ۱۹۱۹ء) حضرت حکیم ڈاکٹر احمد حسین صاحب لائلپوری (غلہ منڈی) میر مجلس نے حاضرین کو بتایا کہ قبل اس کے کہ میں حضرت ڈاکٹر صاحب کو دعوت کلام دوں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ وہ خوش نصیب رفیق ہیں جنہوں نے ۶ امئی ۱۹۰۸ء کو حضرت اقدس مسیح موعود کے دربار میں پڑھی جانے والی آخری نظم سنائی۔مطلع اس تاریخی نظم کا تھا۔یا رب قادیاں میں میرا مزار اور میرا ذرہ ذرہ اس ثمار ہووے ہووے (الحکم ۱۸ جولائی ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۸) اب نظام خلافت سے متعلق حضرت ڈاکٹر صاحب کی نظم سنئے : وصیت ہے مسیحا کی ، رہو تم ایک جاں ہو کر اگر روٹھے کوئی اسکو منا لو مہرباں ہو کر یہی پہلا سبق ہے۔اور یہی تعلیم 1 احمد ہے رہیں سب احمدی آپس میں یکدل یک زباں ہو کر