پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 25 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 25

پُر کیف عالم تصور کا مشاعر و جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار انہیں کیا ہو گیا کیوں قادیاں کو چھوڑ بیٹھے ہیں امنگیں دل کی دل میں ہی رہیں اُن کی عیاں ہو کر 25 نبی لکھ کر نبی سے آج جو انکار کرتے ہیں خلافت کے عدو وہ بن گئے ہیں مہرباں ہو کر مرے نالوں سے مرغان چمن فریاد کرتے ہیں جو اُن کے درد میں میں کر رہا ہوں نیم جاں ہو کر الگ جو بھیٹر ہوتی ہے وہ اکثر بھیڑیوں کی ہے یقیناً ایک دن اڑ جائے گی وہ دھجیاں ہو کر یہ کیسے مولوی ہیں گالیوں پر جو اُتر آئے یہ کیوں تہذیب سے عاری رہے پیر مغاں ہو کر مقابل شیر کے آنا نہیں زیبا روباہ کو عجب نادان ہیں اترا رہے ہیں ناتواں ہو کر میاں محمود احمد قدرت ثاني احمد ہے فدائے دیں یہی مصلح ہوا ہے نوجواں ہو کر بتاؤ کس کی جرات ہے کہ جو اسکے مقابل میں سر میداں نکل آئے ذراہ و پہلواں ہو کر یہ ان فضلوں کا جامع ہے جنہیں احمد صحیح لایا زباں کو تھام لے مت چھیٹر اس کو بدزباں ہو کر خدا کی ایک سنت ہے کہ جو ہر گز نہیں ملتی کہ وہ پاکوں کا حامی ہے رہے گا مہرباں ہوکر سنو اور سن کے ایم اے کی جماعت میں یہ کہہ دینا مسیحا کہہ گئے ہیں احمد آخر زماں ہو کر