پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 14 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 14

پُر کیف عالم تصور کا مشاعر و جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار 0000000000 1911 14 یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے مرکز احمدیت قادیان میں برپا ہونے والی اس پہلی بزم مشاعرہ میں اپنا کلام سنایا جس میں صدر حضرت سیدنا نور الدین خلیفہ ایسیح الاوّل تھے۔یہ تاریخی مشاعرہ ۲۳ نومبر ۱۹۶۱ء کی صبح کو مدرسہ تعلیم الاسلام کے صحن میں ہوا۔حاضرین کئی سو تھے۔مشاعرہ کا آغاز حضرت خلیفہ اسح الاول اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے تشریف لانے پر ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح الاوّل کے ارشاد پر اکبر شاہ خاں نجیب آبادی (مؤلف " تاریخ اسلام وفات مئی ۱۹۳۸ء ) حسب پروگرام نام پکارتے تھے۔دس شعراء نے سامعین کو اپنے کلام سے محظوظ کیا۔مشاعرہ کی دلچسپ اور مفصل روداد اخبار بدر دسمبر ۱۹۱۱ء صفحہ ۳ تا۶ میں شائع شدہ اور پڑھنے کے لائق ہے۔) ہمارا پیشوا یہی رہبر المومنین محمود ہمارا سراپا راستبازی کا نشاں ہے اولو العزمی میں یکتائے زماں ہے نوجواں ہے احمد خدا رکھے اسے دائم سلامت ہمارا پیر اب اسی کے سر پہ ہے تاج خلافت اُسی کے ہاتھ ہم سب کی عناں ہے ہے راستبازوں کا شہنشاہ جو دل پر مومنوں کے حکمراں ہے یہی مخزن ہے ہے علیم معرفت کا نہیں کان حقیقت بے گماں ہے لٹاتا ہے خزانہ معرفت کا سخاوت اس کے چہرے سے عیاں ہے اسے حق نے دیا جو علم قرآں عیاں ہے وہ نہ محتاج بیاں ہے ہمیں یہ کھول کر سمجھا رہا ہے کہ اس میں سود ہے اس میں زیاں ہے سنو اے دوستو اک بات میری اگر پاس مسیحائے زماں ہے کیا ہے دین کو تم نے مقدم تمہارے دوش پر بار گراں ہے کہا ہے جو اُ سے کر کے دکھاؤ کہ قول صادقاں ہمراہ جاں ہے کرو قربانیاں تم راہ دیں میں ترقی اب اسی میں ہم عناں ہے اٹھو اور اُٹھ کے دُنیا کو دکھا دو کہ خادم دین کا ہم سا کہاں ہے کرو تم مال و زر سے اس کی امداد تمہاری قوم زار و ناتواں ہے خدا ہرگز نہیں محتاج لیکن تمہارا امتحاں ہے امتحاں ہے