پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 13
پُرکیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار حق ادھر ہے جس طرف یہ مہدی معہود ہے حق نے برکت ڈالی ہے اس کی زباں میں بیشتر جانشیں اس کا جو ہے بیشک ہے راہ راست پر متبع اس کا ہے آفت سے اماں میں بیشتر سایہ رحمت اس پر خوش سپر محمود ہے حامی دیں حق کے لطف بیکراں میں بیشتر ہے خدا اس کا معلم وہ خدا کا دوست ہے ہے نصیبہ اُس کا فیض آسماں میں بیشتر اس کے دل میں تڑپ اسلام کی تائید کی قرر ب حق میں سب سے وہ ہمرہاں میں بیشتر چاہیئے ہر مومن اس کے ہاتھ پر بیعت کرے ور نہ ہو گا 03 گروہ گمراہاں میں بیشتر 13 جو بُرا اُس کو کہے گا وہ بُرا ہو جائیگا آگ لگ جائے گی اس کی بدزباں میں بیشتر کیوں نہ ہم پیرو ہوں اُس کے جان اور دل سے اولیس مرتبہ میں ہے جو سب سے اس زماں میں بیشتر حضرت منشی نعمت اللہ خاں صاحب انور بدایونی ( الفضل ۲ مئی ۱۹۱۴ء صفحه ۲ ) ( مہاجر قادیان۔آپ پہلے منظر تخلص رکھتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کے منشاء مبارک کے مطابق اسے ترک کر کے انور کہلانے لگے۔حضرت صوفی تصور حسین صاحب اور آپ کو