پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 43
پُر کیف عالم تصور کا مشاعر و جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار 43 کے سورۃ فاتحہ کے بعد درود شریف پڑھیں اور قطعی طور پر یقین رکھیں کہ ہمارے محبوب آقا حضرت خلیفۃ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اس زمانہ میں آل محمد کے اولین مصداق اور اسلامی افواج کے عالمگیر روحانی قافلہ سالار ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے دل و جان سے پیارے آقا کو صحت و سلامتی کے ساتھ فتوحات نمایاں سے معمور، عمر خضر عطا کرے اور یہ انقلاب عالم حضور ہی کے عہد مبارک میں ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ ماسکو ، لنڈن یا نیو یارک کی بجائے مکہ معظمہ حقیقی معنوں میں دنیا بھر ک فعال مرکز بن جائے اور قرآن کو عالمی دستور حیات تسلیم کیا جائے اور خدا کا خلیفہ برحق براہ راست میدانِ عرفات سے اقوام عالم سے خطاب کر کے ان پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا سکہ بٹھا دے اور ساری دنیا اسی طرح توحید سے بھر جائے جس طرح آسمان لا تعداد ستاروں سے بھرا ہوا ہے اور سمندر پانی کے قطرات سے پُر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پوری عمر اپنے مولیٰ سے یہ دعا کرتے رہے۔میرے آنسو اس غم دل سوز سے تھمتے نہیں دیں کا گھر ویران ہے دنیا کے ہیں عالی منار دل نکل جاتا ہے قابو سے یہ مشکل دیکھ کر اے میری جاں کی پنہ فوج ملائک کو اتار نئے ارض وسماء ان مختصر مگر دل سے نکلے ہوئے پُر خلوص کلمات نے ہر دل میں ایک زلزلہ سا بپا کر دیا جس کے بعد اس تضرع، ابتیال ، آہ و بکاء اور گریہ وزاری سے اجتماعی دعا ہوئی گویا عرش کے پائے بھی لرز گئے ، فرشتے بھی کانپ اٹھے اور رب جلیل بھی زمین پر آ گیا تا محمد رسول اللہ کی حکومت دوبارہ دنیا میں قائم کر دی جائے۔اب ہجوم عاشقاں پنڈال سے باہر آیا تا پہلی گزرگاہ سے گھروں تک پہنچے لیکن کیا دیکھتے ہیں کہ پہلا رستہ سرے سے غائب ہے اور اسکی بجائے ایک نئی زمین اور نیا آسمان