پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 31
پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار 31 احمدی اٹھ ذرا دنیا میں منادی کر دے آج بے چاروں کا ایک ہی چارا محمود وہ حقارت سے جسے بچہ کہا کرتے تھے آئیں اب دیکھیں ذرا آگے ہمارا محمود کاش کہتا کوئی منظور مجھے بھی آکر یاد کرتا کرتا ہے تمہیں آج تمہارا محمود حضرت منشی محمد حسن رہتاسی صاحب این حضرت منشی گلاب دین خان صاحب رہتای (الحکم دسمبر ۱۹۳۹، صفحه ۴۷) سال بیعت ۱۸۹۵ء۔رفیق ابن رفیق اور شاعر بن شاعر۔پاکستان بننے کے بعد مسجد فضل لائل پور میں بود و باش کرلی اور یہیں انتقال کیا۔آپ کے والد کا نام حضرت مسیح موعود نے تین سو تیرہ اصحاب کی فہرست میں نمبر ۳۴ پر تحریر فرمایا ہے) زندگی قرآن پر ہو موت بھی قرآن پر مومنوں کا یہی لب لباب زندگی ہے درس قرآن دے جب امیر المومنین رہے اور تھے خدام بھی کھولے نصاب زندگی طبع رنگیں میں سرور آیا تو بول اٹھے حسن چھیڑتے ہیں یوں خدا والے رباب زندگی کلام حسن رہتاسی صفحہ ۳۸ ۳۹ مرتب ڈاکٹر نذیر احمد ریاض مرحوم مطبوعہ نور آرٹ پریس راولپنڈی) اے امیر المومنیں فضل عمر ، فرخ تبار دیده 多 ور ترے نور خلافت آشکار