پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت

by Other Authors

Page 32 of 49

پُرکیف عالم تصور کا مشاعرۂ جشن خلافت — Page 32

پر کیف عالم تصور کا مشاعرہ جشن خلافت اور اصحاب مسیح الزماں کے عاشقانہ اشعار تجھے ابنائے ظلمت دیکھ سکتے کس طرح از چشم شیراں ، پنہاں خُور نصف النہار رو 32 ( ایضاً صفحه ۱۲۰) حضرت خان ذوالفقار علی خاں صاحب گوہر رامپوری ، شاگرد داغ دہلوی ( بیعت ۱۹۰۰ء۔وفات ۲۶ فروری ۱۹۵۴ء بعمر ۸۵ سال۔برٹش انڈیا کے شہرہ آفاق علی برادران کے برادر اکبر۔والد بزرگوار حضرت مولانا عبدالمالک خاں صاحب مرحوم ناظر اصلاح وارشادر بوہ۔نذرانہ عقیدت بحضور حضرت مصلح موعود ) نہ مانا جس نے تجھ کو پھر خدا کو اس نے کیا مانا زہے قسمت جنہوں نے تجھ کو سمجھا تجھ کو عد و محروم تیرے فیض صحبت سے نہ کیوں رہتے پہنچانا مگس کی یہ کہاں قسمت کہ پائے سوز پروانا خدا کی نفرتیں دن رات تیرے ساتھ رہتی ہیں نشاں کافی ہیں یہ انکے لئے جو خود ہیں فرزانا ترقیات تیرے عہد زریں کی نمایاں ہیں انہیں گر دیکھ سکتی ہے تو دیکھے چشم کورانا سیادت نے تری بخشا ہے ہم کو رتبه عالی حقیقت ہیں نگاہوں نے اسے سمجھا اسے جانا بنا ہے مربع اہل خرد یہ تیرے ہی دم سے ضروری جانتے ہیں غیر بھی اب تو یہاں آنا خدا کا فضل اے فضل عمر تجھ سے ہے وابستہ زبان بحر و پر احمدیت کا افسانا ہے