مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 38
(♡) نہیں ، یہ پرابلم تو بہت پرانی ہو چکی ہے تم کو تو جس موضوع پر کام کرنا چاہئے وہ تو یہ ہونا چاہئے۔پھر وہ طالبعلم کو بلکل نئی پرابلم مختص کر دیتا۔کچھ عرصہ بعد ہم طلباء بھی دانشمندی سے کام لینے لگے اور اس کو ملنے سے احتراز کرتے۔تا وقتیکہ ہم اس ریسرچ کے کام میں مثبت اور ٹھوس چیز تلاش کر لیتے بلا شبہ ایک جگہہ جہاں ہم اس سے چھپ نہیں سکتے تھے وہ مردانہ واش روم تھا اس لئے کوئی طالب علم اگر بد قسمت ہوتا تو یہ وہ جگہ تھی جہاں اکثر اسکو نئے آرڈرز ملتے تھے۔مجھے لگتا ہے شاید مشہور جرمن سائینسدان ہانس بتجھے Bethe نے یہ بات کہی ہے کہ دنیا میں جینئیں لوگ دو قسم کے ہوتے ہیں۔پہلے گروپ میں (جس میں میرے خیال میں سٹیو وائن برگ شامل ہے ) وہ لوگ ہوتے جو (ریسرچ میں ) نتائج اس غضب کی منطق اور وضاحت کے پیدا کرتے کہ وہ انسان میں یہ احساس پیدا کرتے کہ یہ تو میں بھی کر سکتا تھا۔(صرف اگر میں زیادہ سمارٹ ہوتا ) دوسرے گروپ میں وہ جیکیس genius ہو تے جو تخلیقی قابلیت والے لوگ ہوتے ، گویا وہ جادوگر ہوتے جن کے القاء کے ماخذ نا قابل فہم اور چکر ا دینے والے ہوتے۔عبد السلام میرے نزدیک اس قبیل کا شخص تھا جس کے خیالات میں مشرقی صوفیت کا رنگ ہمیشہ غالب ہوتا تھا۔انسان حیرت کا مجسمہ بن کر رہ جاتا کہ اس کی ذہانت و فطانت کی عمیق گہرائیوں تک کیسے پہنچا جا سکتا ہے؟ عالمی امن کا پیغامبر بلا شبہ یہ سائینسی کا میابیاں سلام کے عظیم کردار کے ایک رخ کی صرف رونمائی کرتی ہیں اس نے اپنی زندگی بین الاقوامی امن اور تعاون کیلئے بھی وقف کر رکھی تھی ، خاص طور پر ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں فرق کو دور کرنے کیلئے۔وہ اس بات پر مکمل یقین رکھتا تھا کہ یہ فرق اس وقت تک ختم نہ ہو گا جب تک کہ تیسری دنیا کی قومیں اپنے سائینسی اور ٹیکنالوجی کے مقدر کے بارے میں خود حتمی فیصلہ نہیں کر لیں یعنی کہ یہ ممالک مالی امداد اور ٹیکنالوجی ایکسپورٹ کرنے کے علاوہ یہ بھی سوچیں کہ انہوں نے چیدہ چیدہ افراد کا ایسا سائینسی گروپ تیار کرنا ہے جو تمام سائینسی امور میں قابلیت کے ساتھ امتیاز کرنے کی اہلیت رکھتے ہوں چنانچہ اس ضمن میں وہ اس بات کا پورے زور سے دفاع کرتا کہ ( ان طلباء) کو