مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 37 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 37

کو انٹم تھیوری آف گریویٹی (~) تا ہم یہ عبد السلام ہی تھا جس کا میں تہ دل سے مشکور ہوں جس نے کو اٹم تھیوری آف گریویٹی میں میرے ذوق کو شعلہ زن کیا۔اور یہ ایسا موضوع تھا جسکے پیچھے اس دور میں باؤلے سنگ اور انگلش مین سبک گام تھے۔میرے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کا عنوان یہ تھا۔پرابلمز ان دی کلاسیکل اینڈ کو انٹم تھیوریز آف گریوی ٹیشن۔جب میں نے اسکا اعلان کا رگیز سمر اسکول کے موقعہ پر کیا جب میں ٹریسٹ پوسٹ ڈاکٹریٹ کیلئے عازم سفر ہو رہا تھا تو لوگوں نے اسکا استقبال استہزاء سے کیا۔اس تحقیقی کام کا آغاز عبد السلام اور ہیر من بانڈی Bondi کے مابین ایک شرط سے ہوا تھا کہ آیا فین مین ڈایا گرام استعمال کرتے ہوئے Schwarzchild solution کا استخراج کیا جا سکتا ہے۔ہاں ایسا کیا جاسکتا ہے۔اور میں نے یہ ثابت بھی کر دکھایا تھا۔مگر مجھے معلوم نہیں آیا مسٹر بانڈی نے شرط ہار کر رقم بھی ادا کی تھی یا نہیں ؟۔یہ چیز ناگزیز تھی کہ عبدالسلام اس وقت تک چین اور سکھ کا سانس نہ لیتا۔جب تک کہ وہ چوتھی فطری قوت اور سب سے زیادہ دقیق اور رمز آمیز قوت یعنی فورس آف گریویٹی، کو تین دوسری قوتوں کے ساتھ متحد نہ کر لیتا۔ایسی وحدانیت آئن سٹائین کا بھی ہمیشہ سنہری خواب رہی اور یہ ماڈرن تھیو رٹیکل فزکس کیلئے آج بھی زبر دست چیلنج ہے۔یہ قابل اور فعال محقیقین کو اپنی کشش سے اپنی طرف بے اختیار کھینچ لاتی ہے اور جن میں سے کچھ آج شام اس محفل میں یہاں موجود ہیں۔سلام اور اس کے شاگرد میں یہاں اس بات کا ذکر چنداں کرنا چاہتا ہوں کہ ایسے شخص کا شاگرد ہونا جو نئے نئے آئیڈیاز سے ہر آن ہر لحہ اہل رہا ہو جیسے عبد السلام تھا یہ ایک قسم کی رحمت کے بھیس میں زحمت تھی۔وہ ریسرچ کا کام ایک طالب علم کو دے دیتا ، پھر خود اپنے عالمی سفروں پر مسلسل کئی ہفتوں کیلئے روانہ ہو جاتا تھا (اس صورت میں میں اپنے ڈاکٹریٹ کے مقالہ کے لکھنے میں عملی مدد کیلئے Chris lsham کی طرف رجوع کرتا تھا )۔جب وہ واپس لوٹ کر آتا تو طالب علم سے سوال کرتا۔تم کس چیز پر تحقیق کر رہے ہو؟ جب شاگرد وہ معمولی کام جو اس عرصہ میں کیا ہوتا اس کو بیان کرنا شروع کرتا تو عمو مادہ جوابا کہتا نہیں