مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 39 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 39

(۳۹) ایسے دقیق مضامین کی تعلیم دی جائے جن کیلئے خاص ٹریننگ کی ضرورت ہوتی ہے جیسے تھیوریٹیکل ایلی مینٹری پارٹیکل فزکس۔مگر بعض نقاد ایسے بھی تھے جو یہ دلیل دیتے تھے کہ بجائے تعلیم کے ان (طلباء) کے وقت اور کوشش کا بہتر مصرف ان ممالک کی زراعت پر ہوسکتا ہے۔ٹریسٹ شہر میں آئی سی ٹی پی کا قیام اس ضمن میں پہلا قدم تھا وہ کئی سال تک تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائینسز کا صدر رہا۔پھر اس کا نام یونیسکو کے ڈائر یکٹر کی نامزدگی کیلئے بھی سرگرمی سے پیش ہوا تا آنکہ کمزور صحت نے اسکو اپنا نام اس الیکشن سے واپس لینے پر مجبور کر دیا۔وہ صدر پاکستان کا چیف سائینفٹک ایڈوائزر بھی رہا۔تیسری دنیا کے ممالک کو سائینس اور ٹیکنالوجی کی کس قدر اشد ضرورت ہے اسکی دور رس نگاہوں کی جھلک اسکی کتاب آئیڈلز اینڈری ایلے ٹیز میں باضابطہ طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔میں یہاں ان ان گنت ایوارڈز کی فہرست پیش نہیں کروں گا جو اس کو ملے، مگر چند ایک کا ذکر کرنا ضروری ہے ایٹم فار پیس پرائز ۱۹۶۸ء آئن سٹائن میڈل ۱۹۷۹ء اور پیس میڈل ۱۹۸۱ ء اس کو دنیا کی چالیس یونیورسٹیوں نے آنریری ڈگریاں دیں اور برٹش سائینس کو خدمات کے عوض اسے آنریری نائٹ ہوڑ دی گئی۔عبد السلام کی تیز دھار سوچ کا ایک اور قابل ذکر پہلو یہ ہے۔کہ وہ تا دم مرگ ایک راسخ العقیدہ مسلمان رہا بد قسمتی سے میں خود کو اس قابل نہیں سمجھتا کہ اس کے روشن کردار کے اس پہلو پر رائے زنی کروں ماسوا یہ کہنے کہ وہ اس امر کو نہایت سنجیدگی سے گلے لگاتا تھا۔مثلا اس نے اسلامی قانون کی اس رعایت سے استفادہ کیا جسکے مطابق وہ ایک سے زیادہ شادیاں کر سکتا تھا۔اس چیز نے نوبل انعام کی مجلس کے موقعہ پر سفارتی بحران پیدا کر دیا۔جب وہ دونوں بیویوں کے ساتھ سٹاک ہالم پہنچا وہ شام اس لحاظ سے بھی قابل دید تھی۔کہ سلام اپنے روایتی لباس میں ملبوس وہاں آیا سر پر پگڑی۔شلوار۔اور رنگین پنجابی جوتے ( یعنی کھے )۔اس لباس میں وہ ایسا لگتا تھا گویا وہ الف لیلی ویلی کتاب کے صفحات میں سے ابھی ابھی قدم رنجہ ہوا ہے اس چیز کا ماحصل یہ تھا۔کہ اس نے گلاشو