مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 316 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 316

(۳۱۶) میں نے ان کو اٹلی خط لکھا کہ مجھے آپ کے مشورہ کی ضرورت ہے۔چند ہفتوں بعد جواب آگیا، مگر یہ کوئی چھوٹا سا جواب نہ تھا۔ان کے سیکرٹری کی طرف سے کاغذات کا اتنا بڑا بنڈل تھا کہ محض ان کو پڑہنے کیلئے چند ہفتے درکار ہوں گے۔مسلکہ کا غذات میں ایڈوانس سٹڈی اور پی ایچ ڈی کیلئے ہر قسم کی معلومات شامل تھی۔کہنے کو تو یہ معمولی سی بات ہے مگر اسکی گہرائی میں اتر کر دیکھیں تو اس عظیم انسان کی دلی ترپ کا اندازہ ہوتا ہے جو تیسری دنیا کے نوجوانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے ان کے دل میں تھی۔استاد کا احترام : O^_ قیام پاکستان سے قبل لالہ ایش کمار ، گورنمنٹ کالج جھنگ میں انگریزی کے استاد تھے۔ان کے شاگردوں میں عبد السلام بھی شامل تھے۔دہلی یو نیورسٹی نے ڈاکٹر عبد السلام کے اعزاز میں نوبل پرائز ملنے کے بعد ایک تقریب کا اہتمام کیا۔سٹیج پر وزیر اعظم ہندوستان کے ساتھ ڈاکٹر صاحب بھی بر انجمان تھے۔دو تین ہزار سامعین میں وزیروں، سفیروں، اور امیروں کی صف کے بعد ایک بوڑھا شخص گوشے میں بیٹھا ہوا تھا۔ڈاکٹر صاحب نے اس ضعیف العمر شخص کو پہچان لیا، وہ سٹیج سے اتر کر سرخ قالین پر چل پڑے اور سید ھے اس بوڑھے کے پاس پہنچ گئے ، یہ لالہ ایش کمار تھے، ان کو ساتھ لیکر ڈاکٹر صاحب سٹیج پر آئے اور وزیر اعظم کے ساتھ کی کرسی پر ان کو بٹھا دیا۔(چناب سے کو مستی تک۔لالہ ایش کمار، ماہنامہ افکار کراچی جنوری ۱۹۸۲) اطہر نوید ملک (ٹورنٹو) نے بیان کیا: میرے ایک دوست نے ڈاکٹر صاحب کو خط اردو میں لکھا اور ان سے فزکس میں مزید تعلیم کیلئے مشورہ مانگا۔ڈاکٹر صاحب نے اس کو اپنے پروفیشنل مشورے سے نوازا۔مگر ساتھ یہ بھی لکھا کہ : You must have an excellent command in English, if you ask me for professional advice