مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 317 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 317

(۳۱۷) in future, write to me in English, otherwise Urdu is welcome۔اعجاز رؤف (کینیڈا) نے بیان کیا: میری سب سے پہلی ملاقات ڈاکٹر عبد السلام سے کیمبرج میں ۱۹۸۸ء میں ہوئی ، جہاں وہ ڈائر اک لیکچر دینے کیلئے تشریف لائے تھے۔میں اور چند دوسرے طالبعلم یہ لیکچر سنے گئے۔لیکچر کے بعد ڈاکٹر صاحب نے سٹیون ہاکنگ سے گفتگو کی اور پھر ہماری طرف چلے آئے۔انہوں نے ہم سب کے ساتھ بڑی گرم جوشی سے ہاتھ ملایا اور ہماری تعلیم کے بارہ میں دریافت کیا۔ایک دفعہ میں نے ان کو احمدی طالبعلموں میں سائینس کے فروغ کیلئے ایک ایسوسی ایشن بنانے کی تجویز کے متعلق مشورہ مانگا۔آپ نے فوری جوابدیا اور اس تجویز پر کڑی تنقید فرمائی اور لکھا کہ سائینس ایک آفاقی چیز ہے اس کو فرقہ واریت کا رنگ نہیں دینا چاہئے۔ہمیں تو تمام انسانیت کی بہبودی کیلئے کام کرنا چاہئے۔ڈاکٹر عبد السلام نے بیان کیا: YL ۱۹۶۲ء میں میری ملاقات اقوام متحدہ کے جنرل سیکر ٹری Dag Hammerskold سے ہوئی۔انہوں نے سائینس اور ٹیکنالوجی کے موضوع پر ایک کانفرینس کے اہتمام کا پراجیکٹ تیار کیا تھا۔ان کے ذہن میں ترقی پذیر ممالک کی ٹیکنا لا جو کیل پراجیکٹس کے ذریعہ ترقی کا ایک منصوبہ تھا۔میرا ان کے ساتھ ایک لمبا انٹرویو ہوا اور یہی وہ موقعہ تھا کہ ان سے میری بالمشافہ ملاقات ہوئی۔سائینس اور ٹیکنالوجی کے متعلق ان کے نظریات semi-mystical تھے۔یعنی اس ترقی کیلئے زبردست انوسٹ منٹ کی ضرورت تھی۔یہ کانفرنس اگلے سال ۱۹۶۳ء میں ان کی رحلت کے بعد منعقد ہوئی۔ڈاکٹر پرویز ہود بھائی ( قائد اعظم یونیورسٹی، اسلام آباد ) نے بیان کیا: