مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 304
۱۳۰۴) ایک روز ہماری خوشی اور تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہوں نے ہمیں فلم لارنس آف عربیا دکھانے کا فیصلہ کیا زندگی میں پہلی بار ہم سینما گھر جانے لگے تھے فلم کا ابھی نصف حصہ ختم ہوا تھا کہ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وقت کا کافی زیاں ہو گیا ہے اس لئے آئے اب گھر چلیں ہماری مایوسی کا کوئی عالم نہ تھا ہم نے ان سے درخواست کہ باقی کی فلم بھی دیکھ لینے دیں بلآخر وہ مان گئے اس شرط پر کہ وہ خود باہر کار میں جا کر بیٹھ جائیں گے۔جب فلم ختم ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ وہ کار کے اندر اپنی تھیوریز میں دنیا و ما فیہا سے کلینا بے خبر مصروف کار تھے۔گھر واپس پہنچنے پر ہمیں حکم ہوا کہ اب ہم نے مضمون لکھنا ہے جس میں یہ ذکر ہو کہ ہم نے اس فلم سے کیا سیکھا؟ وطن عزیز۔ابا جان کو تین باتوں سے مجنونانہ عشق تھا: ایک تو قرآن مجید دوسرا ان کے والدین اور تیسرا ائر مارشل ظفر چوہدری نے بیان کیا: ۳۳ ایک مرتبہ میرا چھوٹا بھائی اور میں صبح کے وقت ڈاکٹر صاحب کے گھر گئے ڈاکٹر صاحب نے قدرے پریشانی کے عالم میں بتلایا کہ انہیں کالج پہنچنا ہے اور ان کی کار کی بیٹری کمزور ہونے کی وجہ سے سٹارٹ نہیں ہو رہی۔میرے بھائی نے کہا کہ اگر صرف یہ بات ہے تو لاز ما دھکا لگانے سے ضرور سٹارٹ ہو جائینگی۔ڈاکٹر صاحب بہت حیران ہوئے اور کہا کہ کیا واقعی اس طرح کار سٹارٹ کی جاسکتی ہے۔میرا بھائی کار میں بیٹھا اور ڈاکٹر صاحب اور میں نے دھکا لگایا اور یوں کار سٹارٹ ہو گئی اور یہ مشکل حل ہوگئی۔اس طرح ہم پر یہ راز کھلا کہ یہ ضروری نہیں کہ ایک عظیم سائینسدان روزمرہ کے معمولی ٹوٹکوں سے بھی واقفیت رکھتا ہو۔یم کیمبرج سے رخصت ہوتے وقت ڈاکٹر سلام نے اپنے نگران پر وفیسر Nicholas Kemmer سے درخواست کی کہ وہ انہیں ایک سفارش نامہ لکھ کر دیں کہ انہوں نے پی ایچ ڈی کرنے