مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 303 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 303

(۳۰۳) گھر امپرئیل کالج سے کافی دور تھا۔ان کے ایک دوست نے ان سے پوچھا کہ آپ نے یہ گھر اتنی دور کیوں خرید لیا ، یوں آپ کا کتنا وقت آنے جانے میں ضائع ہو جائیگا ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر وہ چاہتے تو گھر لندن کے کسی اعلیٰ مضافات میں بھی خرید سکتے تھے۔ڈاکٹر صاحب نے اس دوست کو جواب دیا: میں نے یہ گھر اپنے والدین کی سہولت کو مد نظر رکھتے ہوئے خریدا ہے۔میرے والدین نماز با جماعت کے پابند ہیں اور جو روحانی سکون ان کو نماز با جماعت ادا کر کے حاصل ہوتا ہے وہ اگر میں گھر کہیں دور خرید لیتا تو حاصل نہ ہوتا۔پٹنی کے علاقہ میں مسجد فضل بھی واقع ہے یوں ان کے لئے مسجد جا کر نماز ادا کرنا بہت آسان ہو گا۔جہاں تک میرے روزانہ سفر کا تعلق ہے مجھے اس کی ہرگز پرواہ نہیں۔اسی طرح ایک دفعہ ڈاکٹر صاحب کی ملاقات ڈیوک آف ایڈنبرا (ملکہ ایلر بیتھ کے شوہر۔پرنس فلپ) سے طے ہوئی تو وہاں وہ اپنے والد صاحب کو بھی ساتھ لے گئے اور ان کی ملاقات ڈیوک سے کروائی۔جنوری ۱۹۶۱ء میں ڈاکٹر سلام ڈھا کہ جاتے ہوئے کراچی رکے جہاں ان دنوں ویسٹ و ہارف میں PAEC کی لیبارٹریز تھیں اور سائینسدانوں کا ایک فعال ریسرچ گروپ meson-interaction پر تحقیق کا کام کر رہا تھا ڈاکٹر سلام نے sir John Cockcroft ( نوبل ۱۹۵۱ء ) کو دعوت دی تھی کہ وہ ان لیباٹریز کو وزٹ کریں صبح کے وقت یہ گروپ اپنے کام میں مصروف تھا قبل اس کے کہ سر کاک کرافٹ کمرہ میں آتے کسی نے بلیک بورڈ کو صاف کر دیا۔چند منٹ بعد ڈاکٹر سلام آئے اور بلیک بورڈ صاف دیکھ کر کہا ایسا لگتا ہے کبھی استعمال ہی نہیں ہوا چنانچہ انہوں نے بلیک بورڈ پر ایک پرابلم سمجھانا شروع کر دیا عین اس وقت سر کاک کرافٹ تشریف لائے اور سلام سے مخاطب ہو کر کہا Oh you have started your research group already ڈاکٹر عزیزہ رحمن نے درج ذیل دلچسپ واقعہ اپنے ابی کے بارہ میں سنایا: