مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 305
(۳۰۵) کے دوران تسلی بخش طریق سے اپنا کام سرانجام دیا تھا اس پر ان کے نگران نے کہا: تم مجھے یہ تصدیق نامہ لکھ کر دو کہ تم نے میرے ساتھ کام کیا ہے۔عظیم قدوائی نے بیان کیا: ۳۵ ۱۹۷۱ء میں جب کراچی نیوکلئیر پاور پلانٹ نے critically حاصل کر لی تو ڈاکٹر سلام کراچی تشریف لائے۔ڈاکٹر سلام، آئی ایچ عثمانی ، کے ہمراہ کار میں گورنمنٹ گیسٹ ہاؤس سے کینوپ جا رہے تھے۔عظیم قدوائی بھی کار میں پچھلی سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔عظیم قدوائی جو کئی سال سے ڈان کراچی کے نامور سائینس رائٹر تھے انہوں نے ڈاکٹر عبد السلام سے پوچھا۔? (3) What about یعنی وہ تھیوری جو ڈاکٹر سلام نے ۱۹۶۰ء کی دہائی میں پیش کی تھی اور جس کی وجہ سے ان کی سائینسی دنیا میں بہت عزت افزائی ہوئی تھی۔ڈاکٹر سلام نے یہ جواب دیا اور پھر خوب قہقہ لگا کر ہنستے رہے:۔I am no longer on the trinity wicket, I am working for unity (DAWN, Nov 3, 79) زکر یا ورک کو ڈاکٹر صاحب نے میڈلین ( وسکانسن ، امریکہ ۱۹۸۱) میں یہ واقعہ سنایا تھا: ایک بار ڈاکٹر صاحب کی ملاقات جنرل ضیاء الحق سے پریذی ڈینٹ ہاؤس میں ہوئی ، باتوں باتوں میں ۱۹۸۴ والے انیٹی احمد یہ آرڈی نینس کا ذکر بھی آ گیا۔جنرل صاحب نے کہا بات یہ ہے کہ میرے پاس علماء کا ایک وفد آیا تھا انہوں نے مجھے بتایا کہ احمدی قرآن مجید میں تحریف کرتے ہیں اس لئے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔اس پر ڈاکٹر سلام نے ان سے عرض کیا کہ قرآن کی حفاظت کا وعدہ تو اللہ تعالی نے کیا ہے اس لئے احمدی اس میں تحریف کیسے کر سکتے ہیں؟ اس پر وہ اٹھ کر کتابوں کی الماری کی طرف گئے اور تفسیر صغیر اٹھا لائے اور کہا کہ علماء نے ان آیات کی نشاندہی کی ہے جہاں آپ لوگوں نے تحریف سے کام لیا ہے اور ایک نشان زدہ صفحہ کھول کر میرے سامنے کر دیا۔یہ آیت خاتم النبین تھی میں