مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 288
(۲۸۸) عالم اسلام اپنے اس بطل جلیل کیلئے کچھ کر سکتا۔میں نے عرض کی کہ کر تو سکتا ہے۔پوچھنے لگے کیا؟ میں نے کہا۔۔۔۔۔دعا ئیں۔نوبل پرائز سے پہلے کی بات ہے پروفیسر عبد السلام کو جھنگ کالج کے پرنسپل عبد الباقی نے کا نووکیشن ایڈریس کیلئے مدعو کیا۔ربوہ کالج سے پروفیسر نصیر خاں کے علاوہ مجھے بھی مدعو کیا۔مہمانوں کی پہلی صف میں شیر افضل جعفری بھی اپنے مخصوص لباس میں تشریف رکھتے تھے۔جب کالج کے اساتذہ کا جلوس پر وفیسر سلام کی معیت میں پنڈال میں داخل ہوا تو پروفیسر سلام کے سامنے آتے ہی شیر افضل جعفری نے بے اختیار نعرہ لگایا جیو پتر سلام سلام صاحب نے اس نعرہ کا جواب کا نووکیشن کا ایڈریس پڑھتے ہوئے یوں دیا کہ سب سے پہلے اپنے استاد کو مخاطب کیا: استاذي المحترم شیر افضل جعفری صاحب اور محترم پرنسپل صاحب لوگ جانتے ہیں کہ کالجوں کی کانووکیشن میں پرنسپل کے علاوہ کسی اور کو مخاطب نہیں کیا جاتا۔سلام صاحب نے اپنے استاد کا اعزاز کرنے کیلئے یہ پرانی روایت توڑ دی۔جعفری صاحب کہیں پرائمری کی کلاسوں میں سلام صاحب کے استاد ر ہے تھے۔پروفیسر سلام کے انہی استاد شیر افضل جعفری نے نوبل پرائز کے بعد جو قصیدہ اپنے مخصوص جھنگ رنگ میں سلام کیلئے لکھا تھا وہ بھی اس کتاب میں شامل ہے۔یہ قصیدہ راقم الحروف نے ربوہ میں رسالہ انصار اللہ کا عبد السلام نمبر مرتب کرتے وقت جعفری صاحب سے لکھوایا تھا اور پہلی بار اس رسالہ میں شائع ہوا تھا۔ساتھ میں ایک اور قصیدہ بھی اردو نما فارسی میں ہے۔اس پر شاعر کا نام درج نہیں نہ اس بات کا ذکر ہے کہ یہ قصیدہ کہاں سے لیا گیا۔غالبا یہ وہی قصیدہ ہے جو انصار اللہ میں جعفر طاہر مرحوم نے لکھا تھا۔میرے پاس وہ رسالہ موجود نہیں کہ اس بات کی تصدیق کر سکوں۔مرتب کا فرض تھا کہ وہ ایسی چیزوں کے حوالے ضرور دیتے۔