مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 287 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 287

(۲۸۷) نے محنت کے اس چیلنج کو قبول کیا اور یہ انہونا کام کر دکھایا۔اس کام میں عملی امانت پر وفیسر سلام نے دی۔ربوہ آتے تو کہیں اور جانا ہوتا یا نہ ہوتا کالج کے نیوکمپس میں ضرور جاتے اور ضروریات کا جائزہ لیتے اور پھر مناسب سائینسی سامان کا عطیہ دیتے۔تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے پرنسپل حضرت مرزا ناصر احمد جو بعد کو جماعت احمدیہ کے تیسرے امام ہوئے ، پنجاب یونیورسٹی سینیٹ میں ہمیشہ سے اس بات کے حامی تھے کہ اعلیٰ تعلیم کو محض یو نیورسٹی تک محدود نہیں رہنا چاہئے۔اس پر اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ مختلف جگہوں پر اعلیٰ تعلیم کی اجازت دے دی گئی تو تعلیم کا معیار گر جائیگا۔اس لئے انہیں کے کالج میں جب فزکس اور عربی کی پوسٹ گر یجوکیٹ کلاسز کا اجراء ہوا تو ان کیلئے بڑا چیلنج تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کر تعلیم الاسلام کالج کے ایم اے (عربی) اور ایم ایس سی (فزکس) کے شعبوں نے مدتوں پنجاب یونیورسٹی سے کہیں بہتر نتائج دکھلائے۔اور ہمارے طلباء یو نیورسٹی کے امتحانات میں اول پوزیشن حاصل کرتے رہے۔یا پھر تمام کے تمام طلباء الا ماشاء اللہ فرسٹ ڈویژن میں کامیاب ہوتے رہے۔فزکس میں اس کامیابی میں پروفیسر عبدالسلام کی عملی اعانت اور حوصلہ افزائی نمایاں رہی۔کالج والوں کیلئے اور دوسروں کیلئے یہ بات ہمیشہ تعجب کا موجب ہوتی تھی کہ فزکس کے ایسے جلسوں میں جہاں پروفیسر سلام مدعو ہوتے تھے مجھ جیسا سائینس سے نابلد شخص بھی مدعو ہوتا تھا اور پروفیسر سلام کے ارشادات سنتا تھا۔یہ پروفیسر نصیر خاں کی محبت تھی۔سلام صاحب سے انہیں جلسوں میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔انہیں ادب سے بھی اتنی ہی دلچسپی تھی جتنی سائینس سے تھی۔میں نے ایک بار تفنن سے کہا کہ آپ ادب کی آدمی ہوتے تو بھی نوبل پرائز حاصل کر لیتے کیونکہ آپ کے اندر نو بلیت موجود ہے۔پچھلے دنوں سٹاک ہالم میں مجھے ایک وفد کی ہمراہی میں مراکش کے سفیر محترم سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ہز ایکسی لینسی نے جہاں اور باتیں پوچھیں وہاں یہ سوال بھی کیا کہ پر وفیسر سلام آجکل کہاں ہیں؟ جب انہیں بتایا کہ وہ آجکل صاحب فراش ہیں تو ہز ایکسی لینسی نے لمبا تاسف کا سانس لیا اور کہا اے کاش