مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 267 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 267

(۲۶۷) دیک تھیوری کی تشریح بیان کی ہے یہ مضمون انہوں نے ڈاکٹر عبد السلام کی وفات پر نومبر ۱۹۹۶ میں لکھا تھا ڈاکٹر سلام نظری طبیعات میں دھوم مچانے والی تحقیقات کرنے کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک کے طلباء کی علم طبیعات تک رسائی ہو سکنے کی عالمی کوششوں کے ایک عظیم رہ نما تھے آپ نے دو امریکن سائینسدانوں کے ساتھ مل کر حسابی فارمولے وضع کئے جن برقی مقناطیست ، اور کمزور نیوکلیائی قوت میں با ہمی ربط ثابت ہو گیا اس کو سیمٹری کہتے ہیں یادر ہے کہ برقی مقناطیسی طاقت روشنی اور دیگر اقسام کی ریڈی ہے جبکہ کمزور نیوکلیائی قوت ایٹم کے ایشن کے ذریعہ اپنا اظہار کرتی مرکزے کے اندر اپنا اظہار کرتی کے radioactive decays ہوتے ہیں۔ہے اس کی وجہ سے بعض اقسام ماہرین طبیعات کا اندازہ ہے کہ آج سے تقریبا ۱۵ بلین سال پہلے کائینات کا آغاز آگ کے گولے جیسے ایک وجود میں ایک عظیم دھماکے سے ہوا۔ابتدائی وقت میں فطرت میں سیمٹری نے تمام بنیادی طبعی قوتوں کو ایک طاقت کی صورت میں یکجا رکھا ہوا تھا۔جیسے جیسے اس کا درجہ حرارت کم ہوتا گیا یہ سیمٹری ٹوٹ گئی اور مختلف طبعی قوتوں نے الگ الگ صورت اختیار کر لی۔ڈاکٹر سلام سیمٹری کے ٹوٹنے کی تشریح اس مثال سے دیا کرتے تھے کہ فرض کریں کہ کھانے کی میز پر مہمان گول میز کے گرد بیٹھے ہیں۔ہر دو مہمانوں کے درمیان سلاد کی ڈش رکھی ہوئی ہے۔تو ہم کہیں گے کہ میز پر سلاد سیمری کے ساتھ رکھا گیا ہے۔اب اگر کوئی شخص اپنے دائیں یا بائیں طرف سے سلاد کی ڈش اٹھا لے تو ہم کہیں گے کہ سلاد کی ڈشوں کی سیمٹری ٹوٹ گئی اس کا اثر دوسرے مہمانوں پر بھی ہو گا۔اور وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے دائیں یا بائیں طرف سے سلاد کی ڈش کے انتخاب کے حق سے محروم ہو جا ئیں گے۔خفیف نیو کلیائی قوت کی سیمٹرکی ٹوٹنے سے ایسے تعاملات پیدا ہوتے ہیں جن میں بائیں پن کے رجحانات پائے جاتے ہیں۔بائیں پین کا رجحان ڈاکٹر سلام - گلیشا ؤ۔اور وائن برگ سائینسدانوں نے یہ ثا بت کر دیا کہ گو بظاہر کمزور نیوکلیائی