مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 268
(۲۷۸) قوت اور برق مقناطیس قوت ایک دوسرے مختلف نظر آتی ہیں لیکن ان میں ایک چھپی ہوئی سیمٹری مشترک ہے۔جو نہایت مشکل ریاضیاتی فارمولوں کی مدد سے ثابت کی جاسکتی ہے مگر دقت یہ تھی کہ ان فارمولوں کو حل کرنے کے بعد جو ریاضیاتی جواب حاصل ہوتے تھے وہ بے معنی ہوتے تھے۔چنانچہ ریاضیاتی طریقے وضع کر کے ان فارمولوں کو ری نار مالائز کیا گیا۔یعنی ان کا بے معنی پن دور کیا گیا یہ ایک بہت ہی مشکل کام تھا جو احسن طریق سے انجام پایا۔ڈاکٹر سلام کے ساتھ نوبل انعام میں شریک سائینس دان ڈاکٹر گلا شو Glashow نے ایک انٹر دیو میں بتلا یا کہ ۱۹۶۰ ء میں انہوں نے اپنا تحقیقی مقالہ کو پن ہیگن میں پیش کیا جو ان کے نزدیک ذراتی طبیعات کے اسٹینڈرڈ ماڈل کا پیش خیمہ ہو سکتا تھا۔مگر اس مقالے پر سب متفق نہ ہوئے بلکہ ایک ماہ بعد سلام نے یہ ثابت کر دیا کہ میں بلکل غلط تھا اس طرح اس موضوع پر تحقیق آگے بڑھتی رہی تا وقتیکہ ان تینوں سائینس دانوں نے الگ الگ کام کرتے ہوئے ایک جیسے نتائج حاصل کر لئے۔ان میں ایک نتیجہ یہ تھا کہ خفیف نیو کلیائی قوت اپنا اثر ایسے ذرات کے ذریعہ ایک جگہہ سے دوسری جگہہ پہنچاتی ہے جو ابھی تک لیبارٹری میں دریافت نہ ہوئے تھے ان کوweak vector bosons weak vector bosonsor کہا جاتا ہے ان مجوزہ ذرات کو ڈبلیو پلس اور ڈبلیو ما ئینس، اور زیرو کے الگ الگ نام دئے گئے تھے۔یہ مفروضہ ذرات فوٹان پارٹیکلز جیسا کام کرتے ہیں جن کے ذریعہ برق مقنا طیس قوت کی ترسیل ہوتی ہے۔چنانچہ اس کے بعد ان ذرات کی دریافت کے بارہ میں دیو قامت accelerators میں دوڑ شروع ہو گئی یہ دیو قامت ایکسل لیٹر سید ھے یا دائرے میں بنی ہوئی میلوں لمبی سرنگیں ہوتی ہیں، جن میں خاص انداز میں مقناطیس لگے ہوتے ہیں ان کے اندر دو مخالف سمتوں سے بنیادی ذرات کو برق رفتاری سے چلا کر ایک درمیانی جگہہ پر آپس میں ٹکرا کر مزید نئے ذرات پیدا کئے جاتے ہیں۔اور پھر ان سے نتائج اخذ کئے جاتے ہیں۔۱۹۸۳ء میں ڈاکٹر کا رلورو بیا Carlo Rubia کی سربراہی میں تجربہ کر نیوالے تین سو سے زائد سائینس دانوں کے گروپ نے جینیوا میں موجود CERN لیبارٹری میں ڈبلیو ذرات دریافت کر لئے اور