مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 266
(۲۶۶) مادی کشش کی قوت کا اور اک ہوتا ہے۔اس قوت کے علاوہ بقیہ تین قوتوں کا جو گیج نظریہ ہے اس میں مقامی اور داخلی سیمٹری کا دخل ہے اور ان دونوں طرح کے نظریوں کو یکجا کر نیکا کام یقینا آسان نہیں ہے۔اور موجودہ طبیعات کے بے حد بنیادی سوالات میں سے ایک ہے۔(۱۰) سپر سیمٹری گریوی ٹی کے نظرے کی بنیاد ایک اور نئی اور بنیادی یکسانیت پر ہے جس کو سپر سیمری کہتے ہیں یہ ایک ایسی یکسانیت کا تصور ہے جس میں فرمی ذرات Fermions یعنی وہ ذرات جن کی اسپن نصف اکائی ہوتی ہے اور بوس 800 ذرات یعنی بوسان Bosons یعنی وہ ذرات جن کی اسپن پوری اکائی ہو تی ہے ساتھ ساتھ ایک ہی زمرے میں لئے جاتے ہیں۔اور اس طرح سے فرمی ذرات اور بوس ذرات کا ایک دوسرے میں تبدیل ہونا ممکن ہو جاتا ہے۔اس سپر سیمٹری کی شرط اگر گلوبل سے کم کر کے لوکل کر دی جائے تو نئی گیج فیلڈ اور نئے ذرات حاصل ہو جاتے ہیں۔سپر سیمٹری کی بڑی خاص بات یہ ہے کہ بار بار سیمٹری کے عمل کو دوہرانے سے فرمی یان اور بوسان کو ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ایسی ایپلیس اور ٹائم والی سیمٹری Paincare symmetry کہلاتی ہے جو مادی کشش کی حامل ہوتی ہے اس طرح یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ مادی کشش کو اور دوسری قوتوں سے ملایا جا سکے۔یہی نظریہ سپر گر یو ٹی کہلاتا ہے۔سپر گریوے ٹی میں مادی کشش کو انٹم فیلڈ کی زبان میں بیان کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ یہ نظریہ جیومیٹری کی زبان میں بھی بیان کیا جاسکتا ہے۔ایسا کرنے کیلئے Coordinates اور dimensions کی ضرورت ہوتی ہے ان نقطوں کے مکان کو سپر اسپیس super space کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔عبد السلام اور جان سرادھی Stradthee نے ۱۹۷۴ء میں اس طرح کے مکان اعلیٰ کو استعمال کر کے اعلیٰ قوت کشش کا نظریہ پیش کیا اور کئی مقالے لکھے۔الیکٹرو و یک تھیوری کی تشریح درج ذیل مضمون میں نیو یارک ٹائمز کے مضمون نگار Malcom Brown نے الیکٹرو