مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 121
(۱۲۱) میں اس کے عکس میں تمیز نہیں کرتیں۔انہوں نے یہ نظریہ پیش کیا کہ یہ اصول مطلق نہیں۔خفیف نیوکلیائی قوت اس سے انحراف کرتی ہے اسی زمانہ میں دو امریکی سائینسدانوں Lee & Yang نے بھی ایسا نظریہ پیش کیا جس پر انہیں نوبل انعام دیا گیا۔یہ ایک طرح کا تعصب تھا جو عبد السلام کو اس انعام میں شریک نہیں کیا گیا۔نو بل کمیٹی کا یہ رویہ جس پر منصف مزاج سائینسدانوں کا حلقہ متعجب بھی ہو ا عبد السلام کی دل شکنی کا باعث نہ بن سکا۔وہ مستقل اپنی گراں قدر سائینسی تخلیقات سے طبیعات کو نوازتے رہے اور ذراتی طبیعات کو نئی نئی راہوں سے شناس کراتے رہے۔۱۹۶۷ء میں انہوں نے دوسرا بنیادی اہمیت کا نظریہ پیش کیا۔یہ برق مقناطیس، خفیف نیوکلیائی قوتوں کی وحدت کا نظریہ تھا اس نظرے کی صداقت کا سرن کی لیبارٹری میں تجرباتی ثبوت ۱۹۷۳ء میں ملا۔اور اسی نظریہ کو پیش کرنے پر انہیں ۱۹۷۹ء میں نوبل انعام ملا۔عظمت کا دوسرا پہلو عبد السلام کی عظمت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہ مشرق کی روحانی قدروں کے پر جوش علم بردار ہیں۔اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مغرب میں گزارنے کے باوجود سر تا پا مشرقی ہیں۔مغربی تہذیب کی چکا چوندھ یا اس کے نت نئے رجحانات کے تیز دھاروں سے وہ چنداں مرعوب نہیں، وہ نیوٹن اور میکس ویل کے دیس میں رہتے ہوئے بھی بوعلی سینا، اور ابن الہیشم سے قریب ہیں۔وہ اپنے دین اسلام کی حقانیت پر کامل یقین رکھتے ہیں اور اس کی ہدایات پر سختی سے عمل بھی کرتے ہیں۔مغرب میں ہونیوالی کانفرنسوں کی پارٹیوں میں جب سب شرکاء جام کے جام لنڈھا رہے ہوتے ہیں عبد السلام کے ہاتھ میں اورنج جوس یا کسی شربت کا گلاس ہوتا ہے۔انہیں اپنے کلچر پر فخر ہے اور اس کے اعلیٰ نمونے کا وہ بر ملا اظہار کر تے ہیں۔اس بابت ان کے جذبات کا اندازہ نوبل انعام کے جشن کے موقعہ پر ان کے لباس کے انتخاب سے لگایا جا سکتا ہے۔نوبل انعام لیتے وقت وہ جھنگ کے مخصوص علاقائی لباس میں ملبوس تھے ، شلوار و شیروانی ، سر پر پگڑی اور پیروں میں بھی نوکوں والے جوتے (یعنی پنجابی کھے )۔