مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 122 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 122

(۱۲۲) عظمت کا تیسرا پہلو عبد السلام کی عظمت کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ وہ پایہ کے سائینسداں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتہائی کامیاب منتظم بھی ہیں۔عموماً محققین میں انتظامی صلاحیت نہیں کے برابر ہوتی ہے۔یا اگر کسی میں ہوتی بھی ہے تو وہ انتظامی امور سنبھالنے کے بعد علمی کام یکسر چھوڑ دیتا ہے۔اسے عبد السلام کا کمال ہی کہئے کہ وہ اعلیٰ پیمانہ کی تحقیق بھی کرتے ہیں۔اور ساتھ میں ایک کافی بڑے بین الاقوامی مرکز کا انتظام بھی سنبھالتے ہیں۔ان کے نزدیک ایسا کرنا زیادہ مشکل نہیں۔بس ذرا سی توجہ اور اپنے اوقات میں ترتیب کی ضرورت ہے۔اکثر وہ اس بات پر اظہار تاسف کرتے ہیں کہ ہمارے پس ماندہ ممالک کی یہ بڑی بدقسمتی ہے کہ ان کے سائینسدان اعلیٰ انتظامی عہدہ سنبھالتے ہی علمی کام چھوڑ دیتے ہیں۔یعنی وہ اسی کام سے کنارہ کش ہو جاتے ہیں جس کی بدولت انہیں وہ عہدہ ملا تھا۔اس وجہ سے علمی ترقیوں سے ان عہدہ داروں کی ناواقفیت روز بروز بڑھتی جاتی ہے۔جس کا اثر ملک کی سائینسی پالیسی پر پڑتا ہے۔ادھر چند سالوں سے عبد السلام کے کاندھوں پر انتظامی امور کا کچھ زیادہ ہی بوجھ آن پڑا ہے۔انہوں نے تھرڈ ورلڈ اکیڈمی آف سائیلسز کو قائم کیا ہے جس کے وہ بانی صدر ہیں۔مگر اس کے باوجود وہ علمی تحقیقات کیلئے وقت نکال لیتے ہیں۔سب سے زیادہ روشن پہلو آپ کی شخصیت کا سب سے زیادہ روشن پہلو یہ ہے کہ وہ ایک دردمند دل کے مالک ہیں۔وسیع القلب ہیں اور منکسر المزاج ہیں۔اور یہی وہ پہلو ہے جو انہیں دنیا کے عظیم سائینسدانوں کے درمیان قد آور بنا دیتا ہے۔عبد السلام کے ہم پلہ یا ان سے بڑے اور بھی سائینسدان ہوں گے۔ان جیسے کامیاب اور بھی منتظم ہوں گے اپنی تہذیب کے پر جوش علمبردار بھی کم نہیں۔لیکن کسی ایک فرد میں ان کمالات کا اجتماع ہونا اور ساتھ ہی اس فرد کا منکسر المزاج اور دردمند ہونا صرف انہی کا تشخص ہے۔ان کی بلند قامتی صرف اس وجہ سے نہیں کہ انہوں نے بنیادی اہمیت کے سائینسی نظریات پیش کئے بلکہ اس سے زیادہ ان کی اس تگ و دو کی وجہ سے ہے جو وہ پسماندہ ممالک کے سائینسدانوں کو اعلیٰ