مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام

by Other Authors

Page 120 of 433

مسلمانوں کا نیوٹن ۔ ڈاکٹر عبدالسلام — Page 120

(۱۲۰) اپنی کوششوں کے جواب میں تمسخر، حوصلہ شکنیاں اور حاسدانہ جذبات ملے۔یقینا انہیں اپنی ساری اعلیٰ تربیت خاک میں ملتی نظر آتی ہوگی۔اپنے ملک کو بین الا قوامی سائینس میں ایک خاص مقام دلانے کا ان کا خواب چور چور ہو گیا ہو گا۔پر وہ عبد السلام ہی کیا جو رکاوٹوں سے گھبرا جائے اور نا مساعد حالات کے سامنے سپر ڈال دے۔برہم ہوا ئیں لاکھ مزاحم ہوئیں مگر دیوانہ وار موج نے ساحل کو جالیا انہیں جب یہ یقین ہو گیا کہ وہ اپنے وطن کی خدمت اپنے وطن سے دور رہ کر زیادہ کر سکتے ہیں تو انہوں نے پردیس کی طرف رخ کیا۔انگلستان نے ان کا خیر مقدم کیا۔جہاں وہ پہلے نظری طبیعات کے لیکچرار پھر چند ہی سال بعد پر و فیسر بنائے گئے۔ہر چشم بینا دیکھ سکتی ہے کہ باہر رہ کر انہوں نے جو کمال حاصل کیا اور جسطرح انہوں نے اپنے ملک وملت کی خدمت کی وہ پاکستان میں رہ کر نا ممکن تھی۔عبد السلام کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ان میں کئی کمال ہیں، کئی خوبیاں ہیں۔اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ان میں کوئی انسانی کمزوری نہیں۔اگر ایسا ہوتا تو وہ فرشتہ ہوتے۔پھر اس دنیا کے کام کے نہ رہ جاتے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کی شخصیت میں کمالات کا جمگھٹا ہے اور عظمتوں کا وہ چکا چوند ہے کہ انسانی کمزوریوں کے چند خفیف دھبے جو یقینا ہوں گے نظر نہیں آتے۔عظمت کا ایک پہلو عبد السلام کی عظمت کی مضبوط بنیاد یہ ہے کہ وہ ایک عظیم سائینسدان ہیں سائینس کے میدان میں اپنی عظمت کا سکہ انہوں نے نہایت کم عمری میں ہی جما لیا تھا۔ان کا پہلا اہم کام یہ تھا کہ انہوں نے ذری طبیعات میں ایک ریاضیاتی بھونڈے پن کو دور کرنیکا طریقہ دریافت کیا۔جس سے نظریاتی طبیعات کے حسن میں نکھار آ گیا۔سائینسی کمیونٹی میں اس کام کی کافی پذیرائی ہوئی اور انتہائی کم عمر میں ان کو فیلو آف را ئیل سو سائٹی چن لیا گیا۔ان کا دوسرا اہم کام بھی نظریاتی طبیعات کو ، تجربات کی روشنی میں، خوبصورت ترسے متعلق ہے۔۱۹۵۶ء تک یہ عام خیال تھا کہ کائینات میں کار فرما مختلف قو تیں کسی طبیعاتی عمل اور آئینے